hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36085

.

كنز العمال

36085
Kanz al-Ummal
36076 عن محمد بن عمرو قال : حدثنا أبو سلمة ويحيى بن عبد الرحمن بن حاطب وأشياخ قالوا : رأى عمر بن الخطاب في المنام ، قال : رأيت ديكا أحمر نقرني ثلاث نقرات بين الثنة والسرة ، قالت أسماء بنت عميس أم عبد الله بن جعفر : قولوا له : فليوص وكانت تعبر الرؤيا ، فجاءه أبو لؤلؤة الكافر المجوسي عبد المغيرة ابن شعبة فقال : إن المغيرة قد حمل علي من الخراج ما لا أطيق ، قال : كم جعل عليك ؟ قال : كذا وكذا ، قال : وما عملك ؟ قال : أجوب الارحاء ، قال : وما ذاك عليك بكثير ، ليس بأرضنا أحد يعملها غيرك ، ألا تصنع لي رحى ؟ قال : بلى والله لاجعلن لك رحى يسمع بها أهل الآفاق ! فخرج عمر إلى الحج فلما صدر اضطجع بالمحصب وجعل رداءه تحت رأسه فنظر إلى القمر فأعجبه استواؤه وحسنه فقال : بدا ضعيفا ثم لم يزل الله يزيده حتى استوت فكان أحسن ما كان ، ثم هو ينقص حتى يرجع كما كان ، وكذلك الخلق كله ، ثم رفع يديه فقال : اللهم ! إن رعيتي كثرت وانتشرت فاقبضني إليك غير عاجز ولا مضيع ، فصدر إلى المديتة فذكر له أن امرأة من المسلمين ماتت بالبيداء مطروحة على الارض يمر بها الناس لا يكفنها أحد ولا يواريها أحد حتى مر بها كليب بن البكير الليثي فأقام عليها حتى كفنها وواراها ، فذكر ذلك لعمر فقال : من مر بها من المسلمين ؟ فقالوا : لقد مر عليها عبد الله بن عمر فيمن مر عليها من الناس ، فدعاه وقال : ويحك ! مررت على امرأة من المسلمين مطروحة على ظهر الطريق فلم توارها ولم تكفنها ! قال : والله ما شعرت بها ولا ذكرها لي أحد ! فقال : لقد خشيت أن لا يكون فيك خير ، فقال : من واراها وكفنها ؟ قال : كليب ابن بكير الليثي ، قال : والله لحري أن يصيب كليب خيرا ، فخرج عمر يوقظ الناس بدرته لصلاة الصبح فلقيه الكافر أبو لؤلؤة فطعنه ثلاث طعنات بين الثنة والسرة وطعن كليب بن بكير فأجهز عليه ، وتصايح الناس فرمى رجل على رأسه ببرنس ثم اضطبعه إليه ، وحمل عمر إلى الدار ، فصلى عبد الرحمن بن عوف بالناس وقيل لعمر : الصلاة وحرجه يثعب ، قال : لا حفظ لمن لا صلاة له ، فصلى ودمه يثعب ، ثم انصرف الناس عليه فقالوا : يا أمير المؤمنين ! إنه ليس بك بأس ! وإنا لنرجو أن ينسئ الله في أثرك ويؤخرك إلى حين ! فدخل عليه ابن عباس وكان يعجب به فقال : اخرج فانظر من صاحبي ؟ ثم خرج فجاء فقال : أبشر يا أمير المؤمنين ! صاحبك أبو لؤلؤة المجوسي غلام المغيرة بن شعبة ، فكبر حتى خرج صوته من الباب ، ثم قال : الحمد لله الذي لم يجعله رجلا من المسلمين يحاجني بسجدة سجدها الله يوم القيامة ، ثم أقبل على القوم فقال : أكان هذا عن ملا منكم ؟ فقالوا : معاذ الله ! والله لوددنا أنا فديناك بآبائنا وزدنا في عمرك من أعمارنا ! إنه ليس بك بأس ! فقال : أي يرفأ ! اسقني ، فجاءه بقدح فيه نبيذ حلو ، فشربه فألصق رداءه ببطنه ، فلما وقع الشراب في بطنه خرج من الطعنات فقالوا : الحمد لله ! هذا دم استكن في جوفك فأخرجه الله من جوفك ، قال : أي يرفأ ! اسقني لبنا ، فجاءه بلبن فشربه ، فلما وقع في جوفه خرج من الطعنات ، فلما رأوا ذلك علموا أنه هالك فقالوا : جزاك الله خيرا ! قد كنت تعمل فينا بكتاب الله وتتبع سنة صاحبيك ، لا تعدل عنها إلى غيرها ، جزاك الله أحسن الجزاء ! قال : أبالامارة تغبطوني ؟ فو الله لوددت أني أنجو منها كفافا لا على ولا لي ! قوموا فتشاوروا في أمركم ، أمروا عليكم رجلا منكم ، فمن خالفه فاضربوا رأسه ، فقاموا وعبد الله بن عمر مسنده إلى صدره فقال عبد الله : أتؤمرون وأمير المؤمنين حي ؟ فقال عمر : لا ، وليصل صهيب ثلاثا ، وانتظروا طلحة وتشاوروا في أمركم فأمروا عليكم رجلا منكم ، فمن خالفكم فاضربوا رأسه ، قال : اذهب إلى عائشة فاقرأ عليها مني السلام وقل : إن عمر يقول : إن كان ذلك لا يضر بك ولا يضيق عليك فاني أحب أن أدفن مع صاحبي ، وإن كان يضر بك ويضيق عليك فلعمري لقد دفن في هذا البقيع من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وأمهات المؤمنين من هو خير من عمر ، فجاءها الرسول فقالت : إن ذلك لا تضرني ولا يضيق علي ، قال : فادفنوني معهما ، قال عبد الله بن عمر : فجعل الموت يغشاه وأنا أمسكه إلى صدري ، قال : ويحك ! ضع رأسي بالارض ، فأخذته غشية فوجدت من ذلك فأفاق فقال : ويحك ! ضع رأسي بالارض ، فوضعت رأسه بالارض ، فعفره بالتراب وقال : ويل عمر ! ويل عمر ! إن لم يغفر الله له (ش).
36076 ۔۔۔ محمد بن عمرو سے روایت ہے کہ ابوسلمہ اور یحی بن عبدالرحمن بن حاطب اور چند شیوخ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب (رض) نے خواب میں دیکھا بیان کیا کہ میں نے خواب میں ایک سرخ مرغ دیکھا جس نے مجھے تین ٹھونگے مارے ناف اور عانہ کے درمیان اسماء بنت عمیرام عبداللہ بن جعفر نے کہا کہ عمر سے کہو کہ وصیت نامہ لکھوا دے وہ خواب کی تعبیر بیان کرتی تھی ان کے پاس ابولولو کافر مجوسی آیا جو مغیر ہ بن شعبہ (رض) کا غلام تھا اور کہا کہ مغیرہ نے میرے اوپر جو ٹیکس لگایا ہے وہ میری طاقت سے باہر ہے پوچھاکتنا ؟ بتایا اتنا اتنا ہے پوچھا تمہارا کیا عمل ہے بتایا چکی بناتاہوں تو فرمایا یہ ٹیکس زیادہ نہیں کیونکہ ہمارے علاقہ میں تمہارے علاوہ یہ کام کوئی نہیں جانتا ہے کیا میرے لیے کوئی چلّی نہیں بناؤ گے ؟ اس نے کہا میں آپ کے لیے ایسی چکی بناؤں گا کہ دنیا والے سنیں گے ۔ عمر (رض) منہ حج کے لیے گئے واپسی کے موقع پر محصب میں لپٹ گئے اور اپنی جادر کو سر کے نیچے رخھاچاند کی طرف دیکھا ان کو چاند کی برابر اور حسن پر تعجب ہوا فرمایا ابتداء بہت کمزور پیدا ہوا پھر اللہ تعالیٰ مسلسل اس کو بڑھاتے رہے یہاں تک مکمل ہوگیا اور سب سے حسین ہوگیا پھر کم ہوتا رہے گا یہاں تک اسی حالت پر لوٹ آئے گا جس پر شروع میں تھا یہی حالت ہے تمام مخلوق کی پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھایا اور فرمایا اے اللہ میری رعایا بہت زیادہ ہوگئے اور اطراف عالم میں پھیل گئے مجھے اپنی طرف اٹھالے عاجزی اور ضائع کئی بغیر پھر مدینہ منورہ واپس ہوا ان سے ذکر کیا گیا کہ مقام بیداء میں ایک مسلمان عورت کا انتقال ہوا اس کو زمین پر پھینک دیا گیا لوگ وہاں سے گذرتے ہیں نہ کوئی اس کو کفن دیتا ہے نہ دفن کرتا ہے یہاں تک کلب بن بکیر لیثی کا ہاں سے گذر ہوا وہ وہاں رک گیا اس نے کفن ودفن کردیا یہ واقعہ عمر (رض) سے ذکر کیا گیا تو پوچھا وہاں سے کس کس مسلمان کا گذر ہوا ؟ لوگوں نے بتایا وہاں سے گذرنے والوں میں عبداللہ بن عم (رض) بھی تھے ان کو بلایا اور پوچھا کہ تیرا ناس کہ ایک مسلمان عورت پر تیرا گذرا ہوا جس کو راستہ کے کنارہ پر پھینکا گیا تھا تم نے اس کو نہ چھپایا کفن بھی نہیں دیاتوعرض کیا اللہ کی قسم نہ مجھے اس کا پتہ چلا نہ ہی کسی نے مجھے اس کی اطلاع دی فرمایا مچھے اندیشہ ہوا کہیں ایسا نہ ہو کہ تجھ میں خیر کا پہلو نہ ہو پوجھا اس کو کس نے کفن دیا اور دفنایا لوگوں نے بتایا کلیب بن بکیر لیثی نے فرمایا واللہ کلیب خیر حاصل کرنے کے زیادہ حقدار ہیں عمر (رض) نکلے اپنے درہ کے ذریعہ لوگوں کو صبہ کی نماز کے لیے جگاتے ہوئے ابولؤلؤ کافر ان کے سامنے سے آیا اور خنجر سے ناف اور عانہ کے درمیان تین زخم لگائے کلیب بن بکیر نے اس کو نیز ہ مارا اس پر حملہ کردیا لوگوں نے ایکدوسرے کو بلایا ایک شخص نے اس پر برنس پھینکا اس کو چادر سے لپیٹ لیا عمر (رض) کو اٹھا کر گھرلایا گیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے لوگوں کو نماز پڑھادی عمر (رض) سے کہا گیا نماز میں ان کے زخم سے خون بہہ رہا تھا فرمایا جو نماز کا اہتمام نہ کرے اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں انھوں نے نماز پڑھی زخم سے خون بہہ رہا تھا پھر لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے لوگوں نے کہا اے امیر المومنین آپ کو کوئی تکلیف نہیں ہمیں اللہ کی ذات سے امید ہے آپ کی موت کو موخرکرے آپ کو ایک مدت تک کے لیے زندہ رکھے پھر ابن عباس (رض) داخل ہوئے عمر (رض) کے پسندیدہ شخص تھے ان سے فرمایا نکل کر دیکھو میرا قاتل کون ہے ؟ وہ نکلے واپس آکر بتایا امیر المومنین بشارت ہو آپ کا قاتل ابولولو مجوسی ہے جو کہ مغیرہ بن شعبہ (رض) کا غلام ہے انھوں نے اللہ اکبرکانعرہ بلند کیا یہاں تک آواز دروازہ سے باہر نکلی پھر فرمایا الحمد اللہ الذی لم یجعلہ رجلا من المسلمین یحاجنی بسجدة سجد ھ اللہ یوم القیامة پھر قوم کی طرف متوجہ ہوئے پوچھا یہ تم میں سے کس کے مشورہ سے ہوا لوگوں نے کہا معاذ اللہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ آپ پر قربان کریں ۔ آپ کی عمر ہماری عمر سے زیادہ کردیں ۔ آپ کو کوئی زیادہ تکلیف نہیں فرمایا یرفاء مجھے پائی پلاؤ تو وہ دودھ لے کر آیا اس کو پیاتوپیٹ میں پہنچتے ہی زخموں سے باہر آگیا جب یہ حالت دیکھی ان کو یقین ہوگیا کہ اب عنقریب موت واقع ہوجائے گی تو لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے آپ ہم میں کتاب اللہ پر عمل فرمائے رہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرتے رہے اس سے آپ دوسری طرف اعراض نہ کریں اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے ۔ فرمایا کیا تم امارت کے ہوتے ہوئے مجھ پر غبطہ کرتے ہو اللہ کی قسم میں تو چاہتاہوں اس سے نجات پاجاؤں برابر سرابر نہ مجھ سے کوئی مواخذہ ہو نہ مجھے کچھ ملے جاکر خلافت کے معاملہ میں مشورہ کرلو اور اپنے میں سے ایک آدمی کو خلیفہ مقرر کرلو جو مخالفت کرے اس کی گردن اڑادو وہ اٹھ گئے عبداللہ بن عمررضی العنہ نے عم (رض) کو اپنے سینے کا سہارادیا ہوا تھا تو انھوں نے کہا کیا تم امیر مقرکر رہے ہو جب کہ امیر المومنین زندہ ہیں عمر (رض) نے فرمایا نہیں صہیب (رض) تین دن تک نماز پڑھائیں اور طلحہ کا انتظار کرو اور اپنے معاملہ میں مشورہ کرو تم ایک شخص کو امیر مقرر کرلو جو تمہاری مخالفت کرے اس کی گردن اڑا دو اور فرمایا عائشہ (رض) کے پاس جاؤ ان کو میرا سلام پہنچاؤ اور کہو اس سے تمہارا کوئی نقصان نہ ہوگا اور تم پر کوئی تنگی بھی نہ ہوگی میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہوں اور اگر اس سے آپ کا نقصان اور حرج ہو تو میری زندگی کی قسم کہ اس جنت البقیع میں وہ صحابہ کرام (رض) اور امہات المومنین مدفون ہیں جو عمر سے بہتر ہیں ان کے پاس قاصد پہنچا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اس سے میرا کوئی نقصان ہے نہ مجھ پر کوئی تنگی تو فرمایا مجھے ان دونوں حضرات کے ساتھ دفن کرنا عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا ان پر موت کی غشی طاری ہونے لگی میں ان کو اپنے سینہ کے ساتھ تھاما ہوا تھا پھر فرمایا اے تیرا بھلا ہو پھر میرے سر کو زمین پر رکھ دو ان پر پھر غشی طاری ہوئی دوباری میں نے اس کو محسوس کیا پھر ہوش میں ےآیا فرمایا اے تیرا بھلا ہو میرے سر کو زمین پر رکھ دو میں نے ان کا سر زمین پر رکھ دیا مٹی سے لوٹ پوٹ ہوا اور کہا عمر کی ہلاکت ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت نہ فرمائے یہ تین مرتبہ فرما ۔ (ابن ابی شیبہ)