36078 عن أبي رافع قال : كان أبو لؤلؤة عبدا للمغيرة ابن شعبة وكان يصنع الرحى وكان المغيرة يستغله كل يوم أربعة دراهم ، فلقي أبو لؤلؤة عمر فقال : يا أمير المؤمنين ! إن المغيرة قد أثقل علي غلتي فكلمه يخفف عني ، فقال له عمر : اتق الله وأحسن إلى مولاك ومن نية عمر أن يلقي المغيرة فيكلمه فيخفف عنه فغضب العبد وقال : وسع الناس كلهم عدله غيري ، فأضمر على قتله فاصطنع خنجرا له رأسان وشحذه وسمه ثم أتى به الهرمزان فقال : كيف ترى هذا ؟ قال : أرى أنك لا تضرب به أحدا إلا قتلته فتحين أبو لؤلؤة فجاء في صلاة الغداة حتى قام ورأى عمر وكان عمر إذا اقيمت الصلاة يتكلم فيقول : أقيموا صفوفكم ، فذهب يقول كما كان يقول : فلما كبر وجأه أبو لؤلؤة ، وجأه في كتفه ووجأه في خاصرته ، فسقط عمر ، وطعن بخنجره ثلاثة عشر رجلا ، فهلك منهم سبعة وفرق منهم ستة ، وحمل عمر فذهب به إلى منزله وماج الناس حتى كادت الشمس أن تطلع ، فنادى عبد الرحمن بن عوف يا أيها الناس ! الصلاة الصلاة ! ففزعوا إلى الصلاة ، فتقدم عبد الرحمن بن عوف فصلى بهم بأقصر سورتين في القرآن فلما قضى الصلاة توجهوا إلى عمر فدعا بشراب لينظر ما قدر جرحه فأتي بنبيذ فشربه فخرج من جرحه فلم يدر أنبيذ هو أو دم ، فدعا بلبن فشربه فخرج من جرحه ، فقالوا : لا بأس عليك يا أمير المؤمنين ! فقال : إن يكن القتل بأسا فقد قتلت ، فجعل الناس يثنون عليه يقولون : جزاك الله خيرا يا أمير المؤمنين ! كنت وكنت ! ثم ينصرون ، ويجئ قوم آخرون فيثنون عليه ، فقال عمر : أما والله على ما تقولون ، وددت أني خرجت منها كفافا لا علي ولا لي وأن صحبة رسول الله صلى الله عليه وسلم سلمت لي ، فتكلم عبد الله بن عباس فقال : لا والله لا تخرج منها كفافا ! لقد صحبت
رسول الله صلى الله عليه وسلم فصحبته خير ما صحبه صاحب ، كنت له وكنت له وكنت له حتى قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم ، وهو عنك راض ، ثم صحبت خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ثم وليتها يا أمير المؤمنين أنت فوليتها بخير ما وليتها أنت كنت تفعل وكنت تفعل ، وكان عمر يستريح إلى كلام ابن عباس فقال : كرر علي حديثك ، فكرر عليه ، فقال عمر : أما والله على ما تقول لو أن لي طلاع الارض ذهبا لافتديت به اليوم من هول المطلع ! قد جعلتها شورى في ستة : عثمان وعلي وطلحة بن عبيد والزبير بن العوام وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن أبي وقاص ، وجعل عبد الله بن عمر معهم مشيرا وليس هو منهم وأجلهم ثلاثا ، وأمر صهيبا أن يصلي بالناس (ع ، حب ، ك ، ق).
36078 ۔۔۔ ابی رافع سے روایت ہے کہا ابولولوء مغیرہ بن شعبہ کا غلام تھا وہ چکی تیار کیا کرتا تھا مغیرہ (رض) روزانہ ان سے چار دراھم وصول کرتے تھے ۔ ابولؤلؤ نے عمر (رض) سے ملاقات کی اور کہا اے امیر المومنین مجھ پر کرایہ بڑھا دیا ہے آپ ان سے بات کریں کچھ ہلکا کرے عمر (رض) نے فرمایا اللہ تع اللہ یٰ سے ڈر اپنے آقا کے ساتھ حسن سلوک کر عمر (رض) کا ارادہ یہی تھا مغیرہ سے ملاقات کریں تخفیف کے لیے کہے لیکن اس بات سے غلام کو غصہ آیا ان کا عدل و انصاف میرے علاوہ تمام لوگوں کے لیے عام ہے دل میں ارادہ کرلیا عمر (رض) کے قتل کا ایک دودھاری خنجر تیار کیا اس کو دھار لگایا پھر زہر الود کیا پھر ہرمزان کے پاس لایا اور اس سے پوچھا اس کو کیسے پاتے ہو ؟ اس نے کہا تم اس سے جس کو بھی ماروگے قتل کردوگے ابولولوء نے تیاری کی اور فجر کی نماز کے وقت آکر عمر (رض) کے پیچھے کھڑا ہوگیا ۔ عمر (رض) کی عادت مبارکہ تھی جب نماز کھڑی ہو تو فرمائے اقیمو اصفوفکم صفیں سیدھی کرلیں یہ الفاظ کہہ کر فارغ ہوئے تکبیر تحریمہ کیا تو ابولولو نے اچانک خنجر مارا ایک ناف کے نیچے ایک کندھے پر ایک کولہے پر عمر (رض) گرپڑے اور اس نے اپنے خنجر سے تیرہ آدمیوں کو زخمی کیا جن میں سات شہید ہوگئے چھ کو صف سے الگ کرلیا گیا عمر (رض) کو اٹھا کر گھرلایا گیا لوگ مضطرب تھے یہاں تک سورج طلوع ہونے کے قریب ہوگیا عبدالرحمن بن عوف (رض) نے آواز دی ۔ لوگو نماز ادا کرلو لوگ نماز کی طرف دوڑے عبدالرحمن بن عوف (رض) آگے بڑھے اور مختصر ترین سورتوں سے نماز پڑھا دی نماز سے فارغ ہو کر عمر (رض) کے پاس گئے تو پینے کی چیز منگوائی گئی تاکہ زخم کی گہرائی معلوم ہوا نبیذ لایا گیا جیسے ہی اس کو پیاز خم سے باہر نکل گیا معلوم نہ ہوسکا نبیذ ہے یا خون ؟ پھر دودھ لایا گیا وہ بھی زخم سے باہر نکل گیا لوگوں نے کہا اے امیر المومنین آپ پر کوئی حرج نہیں انھوں نے فرمایا اگر قتل میں کوئی حرج ہے تو میں قتل کردیا گیا ہوں لوگ عمر (رض) کی تعریف کرنے لگے اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء فرمائے امیر المومنین آپ ایسے اچھے اوصاف کے حامل تھے پھر اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کررہے تھے پھر دوسری جماعت آکر اس طرح تعریفیں کرتی رہی تو عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم تم میرے بارے میں یہ باتیں کررہے ہو میری تو خواہش یہ ہے کہ میں دنیا سے اس طرح نکل جاؤں کہ میرے ذمہ کسی کا حق باقی نہ رہے بس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت کی برکت میری آخرت کے لیے باقی رہے عبداللہ بن عباس (رض) نے بات کی کہ اللہ کی قسم آپ برابر سرابر نہیں جائیں گے آپ نے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اٹھائی ہے وہ اوروں کی صحبت سے بہت برتر ہے آپ ان کے معاون و مددگار حتی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے پھر آپ صدیق اکبر (رض) کی صحبت میں رہے پھر آپ خودامیر المومنین بنے اور آپ نے امارت کے فریضہ کو انتہائی حسن و خوبی سے انجام دیا اور آپ نے ایسے ایسے عدل و انصاف قائم کئے عمر (رض) ابن عباس (رض) کی گفتگو سے سکون محسوس کررہے تھے فرمایا اے ابن عباس اپنی باتوں کا اعادہ کریں انھوں نے اعادہ کیا تو عمرنے فرمایا تم جو کچھ کہہ رہے ہو اپنی جگہ برحق ہے لیکن میرے دل کی حالت یہ ہے کہ اگر آج مجھے زمین بھر سونا بھی مل جائے اس کو میں اس دن کی ہول ناکی سے بچنے کے لیے فدیہ میں دیدوں گا میں نے چھ آدمیوں کا شوری بنایا ہے عثمان علی ، طلحہ بن عبید اللہ ، زبیر بن عوام ، عبدالرحمن بن عوف مسعد بن ابی وقاص عبداللہ بن عمر (رض) ان کے ساتھ مشیر بنایا وہ شوری کے رکن میں سے نہیں ہوں گے ان میں تین بڑے ہوں گے اور صہیب (رض) کو حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ (عبدالرزاق حاکم بیہقی)