hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36086

.

كنز العمال

36086
Kanz al-Ummal
36077 عن جابر قال : لما طعن عمر دخلنا عليه وهو يقول : لا تعجلوا إلى هذا الرجل ، فان أعش رأيت فيه رأيي وإن أمت فهو إليكم ، قالوا : يا أمير المؤمنين ! إنه والله قد قتل وقطع ، قال : إنا لله وإنا إليه راجعون ، ثم قال : ويحكم من هو ؟ قالوا : أبو لؤلؤة ، قال : الله أكبر ، ثم نظر إلى ابنه عبد الله فقال : أي بني ! أي والد كنت لك ؟ قال : خير والد ، قال : فأقسم عليك لما احتملتني حتى تلصق خدي بالارض حتى أموت كما يموت العبد ، فقال عبد الله : والله إن ذلك ليشتد علي يا أبتاه ! ثم قال : قم فلا تراجعني ، فقام فاحتمله حتى ألصق خده بالارض ، ثم قال : يا عبد الله ! أقسمت عليك بحق الله وحق عمر إذا مت فدفنتني فلا تغسل رأسك حتى تبيع من رباع آل عمر ثمانين ألفا فتضعها في بيت مال المسلمين ، فقال له عبد الرحمن بن عوف وكان عند رأسه : يا أمير المؤمنين ! وما قدر هذه الثمانين ألفا فقد أضررت بعيالك أو بآل عمر ، قال : إليك عني يا ابن عوف ! فنظر إلى عبد الله فقال : يا بني ! واثنين وثلاثين ألفا أنفقتها في اثنتي عشرة حجة حججتها في ولايتي ونوائب كانت تنوبني في الرسل تأتيني من قبل الامصار ، فقال له عبد الرحمن بن عوف : يا أمير المؤمنين ! أبشر وأحسن الظن بالله فانه ليس أحد منا من المهاجرين والانصار إلا وقد قبض مثل الذي أخذت من الفئ الذي جعله الله لنا وقد قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنك راض وقد كانت لك معه سوابق ، فقال : يا ابن عوف ! ود عمر أنه لو خرج منها كما دخل فيها ، إني أود أن ألقى الله فلا تطالبوني بقليل ولا كثير (العدني).
36077 ۔۔۔ جابر (رض) سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) کو نیزہ لگاہم ان کے پاس گئے وہ فرما رہے تھے اس شخص کے متعلق فیصلہ کرنے میں جلدی مت کرو اگر میں زندہ بچ گیا تو اپنی رائے پر عمل کروں گا اگر انتقال کرگیا تو معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے لوگوں نے بتایا اے امیر المومنین وہ تو قتل کردیا گیا کاٹ دیا گیا فرمایا انا لللہ وانا الیہ راجعون پھر فرمایا وہ کون تھا ؟ لوگوں نے بتایا ابولولو تو فرمایا اللہ اکبر پھر اپنے بیٹے عبداللہ کی طرف دیکھا اور فرمایا اے میرے بیٹے میں تمہارا کیسا باپ تھا ؟ بتایا بہترین والد فرمایا میں تمہیں قسم دیتا ہوں مجھے نہ اٹھانا تاکہ میرے رخسار زمین سے ملصق رہے یہاں تک مجھے ایسی موت آئے جیسے غلام کو آتی ہے عبداللہ (رض) نے عرض کیا اباجان یہ معاملہ مجھ پر بہت شاق ہے پھر فرمایا اٹھ جاؤ مجھ سے مزید سوال جواب مت کرو وہ کھڑے ہوئے اٹھا کر ان کے رخسار زمین کے ساتھ لگایا پھر فرمایا اے عبداللہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اللہ کے حق اور عمر کے حق کا جب میرا انتقال ہوجائے ۔ مجھے دفن کرنے کے بعد اپنے سر اس وقت تک نہ دھونا یہاں تک عمر گھروالوں کی زمین بیچ کر اسی ہزار بیت المال المسلمین میں جمع نہ کروا دو عبدالرحمن بن عوف جو ان کے سرہانے کھڑے تھے عرض کیا اے امیر المومنین اسی ہزار کی مقدار میں آپ نے اپنے اہل و عیال کو یا آل عمر کو نقصان پہنچایا ہے تو عمر (رض) نے فرمایا مجھ سے دور ہٹ جاؤ اے ابن عوف پھر عبداللہ کی طرف دیکھ کر فرمایا بیٹے میں نے تیس ہزار تو بارہ حج جو اپنے دور میں کئے ان میں اور جو مختلف قاصد ین میں نے شہروں کی طرف بھیجے ان پر خرچ کیا تو عبدالرحمن بن عوف نے کہا اے امیر المومنین آپ خوش ہوجائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھیں کیونکہ ہم سے مہاجرین و انصار میں سے ہر ایک نے مال میں سے اتنا حصہ وصول کرلیا ہے جو آپ نے مال سے وصول کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوا وہ آپ سے راضی تھے اور بہت سے غزوات میں آپ نے ان کے ساتھ شرکت کی فرمایا اے ابن عوف عمرتو یہی چاہتا ہے کہ دنیا سے اس طرح صاف ہو کر چلا جائے جسے آیا تھا میں چاہتاہوں اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملاقات کروں مجھ سے کسی چھوٹے بڑے حقوق کا مطالبہ نہ کرے ۔ (العدنی)