36084 (مسند علي) عن أبي مطر قال : سمعت عليا يقول : دخلت على عمر بن الخطاب حين وجأه أبو لؤلؤة وهو يبكي فقلت : ما يبكيك يا أمير المؤمنين ! قال : أبكاني خبر السماء أيذهب بي إلى الجنة أم إلى النار ؟ فقلت له أبشر بالجنة ؟ فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما لا أحصيه يقول : سيدا كهول أهل الجنة أبو بكر وعمر وأنعما ، فقال : أشاهد أنت لي يا علي بالجنة ؟ قلت : نعم ، وأنت يا حسن فاشهد على أبيك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن عمر من أهل الجنة (كر).
36084 ۔۔۔ (مسند علی (رض) ابی مطہر سے روایت ہے کہ میں نے علی (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں عمر (رض) کے پاس اس وقت حاضر ہوا جب ابولولو نے ان کو نیزہ مارا وہ رو رہے تھے میں نے کہا آپ کو کیا چیز رلارہی ہے اے امیر المومنین تو انھوں نے فرمایا مجھے آسمانی خبر نے رلایا ہے کہ کیا مجھے جنت میں لے جایا جائے گا یا جہنم میں نے کہا تم کو جنت کی بشارت ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بارہا سنا ہے کہ فرماتے تھے جنت کے بوڑھوں کے سردار ابوبکر (رض) عمر (رض) ہیں ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں پوچھا اے علی کیا تم میرے لیے جنت کی بشارت پر گواہ ہو ؟ میں نے کہا جی ہاں پھر فرمایا گواہ رہو کہ اپنے والد کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ عمر (رض) اہل جنت میں سے ہیں۔ (رواہ ابن عساکر)