36085 (أيضا) عن أوفى بن حكيم قال : لم كان اليوم الذي هلك فيه عمر قلت : والله لآتين باب علي بن أبي طالب ! فأتيت باب علي فإذا الناس يرقبونه فما لبثت أن خرج علينا فأطم ساعة ثم رفع رأسه فقال : لله در باكية عمر قالت : واعمراه ، قوم الاود وأبد العمد ، واعمراه ! مات نقي الثوب قبل العيب ، واعمراه ! ذهب بالسنة وأبقى الفتنة ، قاتلها الله ما ذرب ! ولكنه قول أصاب والله ابن الخطاب خيرها ونجا من شرها (ابن النجار).
36085 ۔۔۔ (ایضا) اوفی بن حکیم سے روایت ہے کہ عمر (رض) کی شہادت کے دن میں نے کہا میں ضرورعلی (رض) کے پاس جاؤں گا میں علی (رض) کے دروازے پر آیا تو دیکھالوگ ان کا انتظار کررہے تھے تھوڑی دیر میں باہر تشریف لائے کچھ دیر خاموشی کے بعد سر اٹھایا پھر فرمایا اللہ ہی کے لیے عمر رضی العنہ پر رونے والی واہ عمراہ نے راہ کو سیدھا کیا عمدہ انتظام کیا واہ عمر واہ عمراہ انتقال کر گیا صاف وستھر ا واعیب لگنے سے پہلے واہ عمر علم اٹھ گیا فتنہ باقی رہ گیا اللہ اس کو ہلاک کرے جس نے فتنے کا دروازہ کھودفیا لیکن وہ ایک بات تھی جو ہوگئی واللہ ابن خطاب نے اس کے خیر کو حاصل کرلیا شر سے نجات پایا گیا ۔ (ابن النجار)