hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36097

.

كنز العمال

36097
Kanz al-Ummal
36088- ابن عساكر أنبأنا أبو بكر بن المنصور بن زريق أنبأنا أبو بكر الخطيب أنبأنا أبو بكر عبد الرحمن بن عمر بن القاسم النرسي أنبانا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي أنبأنا الدارقطني حدثنا يوسف بن موسى بن عبد الله المروزي ثنا سهيل بن إبراهيم الجارودي أبو الخطاب ثنا يحيى بن محمد الصنعي ثنا عبد الواحد بن أبي عمرو الأسدي عن عطاء بن أبي رباح عن ابن عباس قال: قام رجل إلى أبي بكر الصديق بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا خليفة رسول الله! من خير الناس؟ فقال: عمر بن الخطاب، قال: ولأي شيء قدمته على نفسك؟ قال: بخصال؛ لأن الله باهى به الملائكة ولم يباه بي، ولأن جبريل أقرأه السلام ولم يقرئني، ولأن جبريل قال: يا رسول الله! اشدد الإسلام بعمر بن الخطاب، القول ما قال عمر، ولأن الله صدقه في آيتين من كتابه ولم يصدقني، قال: عاتب النبي صلى الله عليه وسلم بعض نسائه فأتاهم عمر فقال: لتنتهين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو لينزلن الله فيكن كتابا، فأنزل الله {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجاً خَيْراً مِنْكُنَّ} الآية، ولأن عمر قال: يا رسول الله! إنه يدخل عليهن البر والفاجر فلو ضربت عليهن الحجاب! فأنزل الله {وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ} ولأن عمر قال: يا رسول الله! لو اتخذت من مقام إبراهيم مصلى، فأنزل الله {وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلّىً} . فلما قبض أبو بكر قام رجل إلى عمر بن الخطاب فقال: يا أمير المؤمنين! من خير الناس بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر الصديق،فمن قال غيره فعليه ما على المفتري. "قال خط": كذا كان في الأصل بخط قط: الصبغي مضبوطا، أخرجه ابن مردويه".
٣٦٠٨٨۔۔۔ ابن عساکر نے ابوبکر بن منصور بن زریق ابوبکر خطیب ابوبکر عبد الرحمن بن عمر بن قاسم نرسی ابوبکر محمد بن عبداللہ شافعی دار قطنی یوسف بن موسیٰ بن عبداللہ مروزی سہیل بن ابراہیم جارودی ابو خطاب یحییٰ بن محمد صنعی عبد الواحد بن ابی عمر واسدی عطاء بن ابی رباح کے سلسلہ سند سے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت نفل کی ہے کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلیفہ ؟ لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : عمر بن خطاب اس شخص نے عرض کیا : آپ عمر (رض) کو اپنی ذات سے مقدم کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ (رض) فرمایا : چند خصلتوں کی وجہ سے ہیں انھیں مقدم کررہا ہوں چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) پر فرشتوں کے سامنے فخر کیا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فخر نہیں کیا۔ چونکہ جبرائیل امین نے عمر (رض) کو سلام پیش کیا ہے جب کہ جبرائیل نے مجھے سلام نہیں پیش کیا : چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر (رض) کی قرآن مجید میں دو آیتوں میں تصدیق کی ہے حالانکہ میری تصدیق نہیں کی ہے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی بعض ازواج مطہرات سے ناراض ہوگئے حضرت عمر (رض) ازواج مطہرات کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے باز آجاؤ ورنہ تمہارے متعلق ضرور اللہ قرآن مجید میں کوئی حکم نازل فرما دے گا۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ :” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیر امنکن “
ان کا رب تمہیں طلاق دے دے اور بدلہ میں تم سے بہتر عورتیں انھیں عطا فرما دے اور اس لیے کہ عمر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ازواج مطہرات کے پاس نیک و بد ہر طرح کا آدمی آتا ہے اگر آپ انھیں پردہ کرنے کا حکم دے دیں چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی۔ ” واذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب “ جب تم ازواج مطہرات سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، نیز اس لیے کہ عمر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ اگر مقام ابراہیم کو مصلی (نماز پڑھنے کی جگہ) قرار دے دیں۔ چنانچہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عمر (رض) کی موافقت میں یہ آیت نازل فرمائی ” واتخذوا من مقام ابراہیم مصلی “ چنانچہ جب حضرت ابوبکر (رض) اللہ تعالیٰ کو پیارے ہوگئے ایک شخص حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے امیر المومنین ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد لوگوں میں سب سے افضل کون ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : ابوبکر (رض) سب سے افضل ہیں جو شخص اس کے علاوہ کوئی اور اعتقاد رکھے گا اس کی سزا وہی ہے جو افتراء باندھنے والے کی سزا ہوتی ہے۔ (قال الخطیب کذا کان فی الاصل بخط الدارقطنی وقال الصبغی مضبوطا واحرجہ ابن مردویہ)