hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36146

.

كنز العمال

36146
Kanz al-Ummal
36137- عن عبد الرحمن بن غنم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لما خرج إلى بني قريظة قال له أبو بكر وعمر: يا رسول الله! إن الناس يزيدهم حرصا على الإسلام أن يروا عليك زيا حسنا من الدنيا فانظر إلى الحلة التي أهداها لك سعد بن عبادة فالبسها فلير المشركون اليوم عليك زيا حسنا، قال: أفعل وايم الله! لو أنكما تتفقان لي على أمر واحد ما عصيتكما في مشورة أبدا، ولقد ضرب لي ربي عز وجل لكما مثلا لقد ضرب مثلكما في الملائكة كمثل جبرائيل وميكائيل، فأما ابن الخطاب فمثله في الملائكة كمثل جبريل، إن الله لم يدمر أمة قط إلا بجبريل، ومثله في الأنبياء كمثل نوح إذ قال: {رَبِّ لا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّاراً} ومثل ابن أبي قحافة في الملائكة كمثل ميكائيل إذ يستغفر لمن في الأرض، ومثله في الأنبياء كمثل إبراهيم إذ قال: {فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ} ولو أنكما تتفقان لي على أمر واحد ما عصيتكما في مشورة ولكن شأنكما في المشورة شتى كمثل جبريل وميكائيل ونوح وإبراهيم. "كر".
٣٦١٣٧۔۔۔ عبد الرحمن بن غنم کی روایت ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنو قریظہ کی طرف چلے تو ابوبکر (رض) و عمر (رض) نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! لوگ اسلام میں داخل ہونے کے لیے حریص ہیں اگر آپ کو دنیا میں اچھی اور خوبصورت حالت میں دیکھ لیں ذرا آپ اس جوڑے کو دیکھ لیں جو سعد بن عبادہ (رض) نے آپ کو ہدیہ کیا ہے آپ اسے پہن لیں تاکہ مشرکین آپ کو آج اچھی حالت میں دیکھیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا ! میں ایسا کروں گا بشرطیکہ اگر آپ دونوں کسی ایک امر پر اتفاق کرلیں میں تمہارے مشورہ کی کبھی بھی نافرمانی نہیں کروں گا میرے رب تعالیٰ نے تم دونوں کی مثال بیان فرمائی ہے چنانچہ فرشتوں میں تمہاری مثال جبرائیل میکائیل جیسی ہے چنانچہ ابن خطاب کی مثال جبرائیل جیسی ہے اللہ تعالیٰ نے جس امت کو بھی تباہ کرنا چاہا تو اسے جبرائیل (علیہ السلام) کے ذریعے تباہ کیا انبیاء میں ان کی مثال نوح (علیہ السلام) جیسی ہے چونکہ انھوں نے فرمایا تھا۔ ” رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا “ اے میرے رب زمین پر کافروں کا کوئی گھر باقی نہ چھوڑ۔ اور ابن ابی قحافہ کی مثال فرشتوں میں میکائیل جیسی ہے چونکہ وہ اہل زمین کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں اور انبیاء میں ان کی مثال ابراہیم (علیہ السلام) جیسی ہے چونکہ انھوں نے فرمایا تھا : فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم جس نے تیری پیروں کی وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو بلاشبہ تو بخشنے والا ہے اور مہربان ہے سو اگر تم دونوں کسی ایک نکتہ پر میرے لیے اتفاق کرو میں تمہارے مشورہ کے خلاف نہیں کروں گا لیکن مشورہ کی رو سے تمہارے اپنے انداز ہیں جیسے جبرائیل و میکائیل نوح اور ابراہیم۔ (رواہ ابن عساکر)