36165- "أيضا" عن هزيل بن شرحبيل قال: دخل طلحة بن عبيد الله على عثمان فقال: يا طلحة! نشدتك بالله ألم تعلم أن المسلمين شكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الجوع فقمت إلى أنحاء السمن والعسل واشتريت دقيقا كثيرا فبسطت الأنطاع ونثرت الخبيص1 عليها؟ فقال: نعم، فقال: نشدتك بالله هل تعلم أني جهزت جيش العسرة وحملت راجلهم وأطعمت جائعهم وكسوت عاريهم وأقمت سبعين فرسا؟ قال: اللهم نعم، قال: نشدتك بالله هل تعلم أني اشتريت بئر رومة فجعلتها سقاية للمسلمين؟ قال: اللهم! نعم."أبو الشيخ في السنة".
٣٦١٦٥۔۔۔ ھزیل بن شرحبیل کی روایت ہے کہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : اے طلحہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مسلمانوں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھوکے ہونے کی شکایت کی میں گھی اور شہد کے مشکیزوں کی طرف اٹھا بہت سا آٹا خریدا پھر دسترخوان پھیلایا اس پر میں نے کھجور اور گھی سے تیار کیا ہوا کھانا پھیلایا ؟ حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا ! جی ہاں حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے جیش عسرت کو ساز و سامان دے کر تیار کیا پیادوں کو سوار کیا بھوکوں کو کھانا کھلایا ننگوں کو کپڑے پہنچائے اور ستر گھوڑے دئیے ؟ حضرت طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں نے بئر رومہ (رومہ کا کنواں) خریدا اور اس کا پانی عام مسلمانوں کے لیے وقف کردیا ؟ کہا جی ہاں۔ (رواہ ابو الشیخ فی السنۃ)