36167- "أيضا" عن عثمان أنه خطب إلى عمر ابنته فرده فبلغ، ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فلما راح إليه عمر قال: يا عمر! ألا أدلك على خير لك من عثمان وأدل عثمان على خير له منك؟ قال: نعم، يا نبي الله! قال: زوجني ابنتك وأزوج عثمان ابنتي. "البغوي في مسند عثمان وابن جرير في تهذيب الآثار وقال: صحيح، ك، ق" في الدلائل واللالكائي في السنة وقال: إسناده لا بأس به لكن الصحيح أن عمر عرض على عثمان حفصة فأبى".
٣٦١٦٧۔۔۔ ” ایضاً “ حضرت عثمان (رض) نے حضرت عمر (رض) کو بیٹی سے نکاح کا پیغام بھیجا۔ حضرت عمر (رض) نے انکار کردیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی جب عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا رثمان سے بہتر کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں اور تم سے بہتر کی طرف عثمان کی رہنمائی نہ کروں ؟ آپ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم اپنی بیٹی میرے نکاح میں دے دو اور میں اپنی بیٹی عثمان کے نکاح میں دیتا ہوں۔ (رواہ البغوی فی مسند عثمان وابن جریر فی تہذیب الآثار وقال صحیح والحاکم والبیہقی فی الدلائل واللالکائی فی السنۃ وقال : اسنادہ لابأس بہ لیکن صحیح روایت یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے حضرت عثمان (رض) سے حضرت حفصہ (رض) کے نکاح کی پیشکش کی تھی لیکن حضرت عثمان (رض) نے انکار کردیا تھا) ۔