36188- عن عمران بن حصين أنه شهد عثمان بن عفان أيام غزوة تبوك في جيش العسرة فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالصدقة والقوة والتأسي وكانت نصارى العرب أكتبوا إلى هرقل: إن هذا الرجل الذي خرج ينتحل النبوة قد هلك وأصابتهم سنون فهلكت أموالهم فإن كنت تريد أن تلحق دينك فالآن، فبعث رجلا من عظمائهم يقال له الصنار وجهز معه أربعين ألفا فلما بلغ ذلك نبي الله صلى الله عليه وسلم كتب في العرب وكان يجلس كل يوم على المنبر فيدعو الله ويقول: اللهم إنك إن تهلك هذه العصابة فلن تعبد في الأرض فلم يكن للناس قوة، وكان عثمان بن عفان قد جهز عيره إلى الشام يريد أن يمتار1 عليها فقال: يا رسول الله! هذه مائتا بعير بأقتابها وأحلاسها ومائتا أوقية فحمد الله رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فكبر وكبر الناس، ثم قام مقاما آخر فأمر بالصدقة، فقام عثمان فقال: يا نبي الله! وهاتان مائتان ومائتا أوقية فكبر وكبر الناس، فأتى عثمان بالإبل وأتى بالمال فصبه بين يديه فسمعته يقول: لا يضر عثمان ما عمل بعد اليوم. "كر".
٣٦١٨٨۔۔۔ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) نے غزوہ تبوک جسے ” جیش العسرہ “ یعنی تنگدست لشکر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ سازوسامان جنگی قوت اور غمخواری کا حکم دیا تھا ادھر عرب کے نصرانیوں نے ہرقل کے پاس اپنا وفد بھیج کر اسے پیغام دیا تھا کہ یہ شخص جس نے نبوت کا دعوی کر رکھا ہے ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہے چونکہ اس کے نام لیوا سخت قحط سالی سے بدحال ہیں ان کے اموال ختم ہوچکے ہیں اگر تم اپنے دین کی نصرت چاہتے ہو تو اس کے لیے یہی وقت ہے چنانچہ ہرقل نے اپنا ایک جرنیل بھیجا جسے ” صفار “ کہا جاتا تھا، اس کے ساتھ چالیس ہزار کا لشکر جرار تھا جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر پہنچی تو آپ نے عرب کے مختلف شہروں میں خطوط بھیجے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر دن منبر پر تشریف لے جاتے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگتے ” اللھم انک ان تھلک ھذا العصابۃ فلن تعبد فی الارض “ یا اللہ اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا پھر زمین پر تیری عبادت نہیں کی جائے گی چونکہ لوگوں کے پاس جنگی قوت نہیں تھی، حضرت عثمان بن عفان رضی لالہ عنہ شام کی طرف تجارتی قافلہ روانہ کرنے کے لیے تیار تھے چنانچہ آپ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! یہ دو سو اونٹ ساز و سامان سے لیس تیار کھڑے ہیں اور یہ دو سو اوقیہ چاندی ہے۔ (آپ انھیں قبول فرمائیں) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور جواب میں لوگوں نے بھی نعرہ تکبیر بلند کیا پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دوسری جگہ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دینے لگے۔ عثمان (رض) حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا نبی اللہ ! یہ ہیں دو سو اونٹ اور دو سو اوقیہ چاندی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بار پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور لوگوں نے بھی نعرہ بلند کیا اس کے بعد عثمان (رض) اونٹ لے آئے اور باقی نقدی مال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھیر کردیا عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا کہ آج کے بعد عثمان جو عمل بھی کریں انھیں نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)