36189- عن حذيفة بن اليمان قال: بعث النبي صلى الله عليه وسلم إلى عثمان يستعينه في جيش العسرة فبعث إليه عثمان بعشرة آلاف دينار فصبت بين يديه فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يقلبها بين يديه ظهرا لبطن ويدعو له يقول: غفر الله لك يا عثمان! ما أسررت وما أعلنت وما أخفيت وما هو كائن إلى أن تقوم الساعة ما يبالي عثمان ما عمل بعد هذا. "عد، قط" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، "كر".
٣٦١٨٩۔۔۔ حضرت حذیفہ بن الیمان (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” جیش عسرت “ کے سلسلہ میں حضرت عثمان (رض) سے مدد لینے کے لیے پیغام بھیجا، عثمان (رض) نے دس ہزار دینار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ارسال کیے دینار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ڈھیر کر دئیے اور آپ نے ہاتھوں سے دیناروں کو اوپر نیچے الٹنا پلٹنا شروع کردیا اور حضرت عثمان کے لیے دعا کرنے لگے : یا اللہ عثمان کی مغفرت فرما دے جو کچھ تو نے پوشیدہ رکھا ہے یا ظاہر کیا ہے یا جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے سب اسے بخش دے اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اسے اس کی کوئی پروا نہ ہو۔ (رواہ بن عدی والداقطنی وابو نعیم فی فضائل الصحابۃ وابن عساکر)