36196- عن أبي مسعود قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في غزاة فأصاب الناس جهد حتى رأيت الكآبة في وجوه المسلمين والفرح في وجوه المنافقين فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: والله! لا تغيب الشمس حتى يأتيكم الله برزق فعلم عثمان أن الله ورسوله سيصدقان فاشترى عثمان أربع عشرة راحلة بما عليها من الطعام فوجه إلى النبي صلى الله عليه وسلم منها بتسع فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما هذا؟ قال أهدى إليك عثمان، فعرف الفرح في وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم والكآبة في وجوه المنافقين فرأيت النبي صلى الله عليه وسلم قد رفع يديه حتى رئي بياض إبطيه يدعو لعثمان دعاء ما سمعته دعا لأحد قبله ولا بعده اللهم! أعط عثمان، اللهم! افعل بعثمان. "كر"
٣٦١٩٦۔۔۔ حضرت ابو مسعود (رض) کی روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے لوگوں کو سخت بھوک و مشقت پیش آئی حتیٰ کہ میں نے مسلمانوں کے چہروں پر مشقت کے آثار دیکھے اور منافقین کے چہروں پر فرحت دیکھی جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس حالت میں دیکھا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! سورج غروب ہونے نہیں پائے گا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے پاس رزق بھیج دے گا حضرت عثمان (رض) کو اس کا علم ہوا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچ فرماتے ہیں چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چودہ اونٹ بمعہ کھانے پینے کی اشیاء کے خرید لیے اور ان میں سے نو اونٹ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف روانہ کر دئیے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں دیکھاتو فرمایا : یہ کیا ہے ؟ جواب دیا گیا حضرت عثمان (رض) نے آپ کی بطور ہدیہ روانہ کیے ہیں چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ بشاشت سے کھل گیا جب کہ منافقین کے چہرے درماندگی سے دو چار ہوگئے میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کیلئے بلند کیے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی آپ نے حضرت عثمان (رض) کے لیے ایسی دعا فرمائی کہ میں نے اس سے قبل ایسی دعا سنی نہ اس کے بعد آپ فرماتے یا اللہ ! عثمان کو عطا فرمایا اللہ عثمان کے ساتھ ایسا کر۔ (رواہ ابن عساکر)