hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36206

.

كنز العمال

36206
Kanz al-Ummal
36197- عن محمد بن عبد الله عن المطلب بن عبد الله عن أبي هريرة قال: دخلت على رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة عثمان وفي يدها مشط فقالت: خرج من عندي رسول الله صلى الله عليه وسلم آنفا وقد رجلت رأسه بهذا المشط فقال كيف تجدين أبا عبد الله؟ قلت: بخير يا أبة! قال: أكرميه فإنه من أشبه أصحابي بي خلقا. "طب" وأبو نعيم في المعرفة والديلمي، "كر" وقال: قال خ: لا أرى حفظه لأن رقية ماتت أيام بدر وأبو هريرة هاجر بعد ذلك بنحو من خمس سنين أيام خيبر ولا يعرف للمطب سماعا من أبي هريرة ولا لمحمد بن المطلب ولا تقوم به الحجة انتهى".
٣٦١٩٧۔۔۔ محمد بن عبداللہ مطلب بن عبداللہ روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی رقیہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت رقیہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے نکاح میں تھیں ان کے ہاتھ میں کنگھی تھی وہ بولیں : ابھی ابھی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس سے تشریف لے گئے ہیں میں نے آپ کے سر مبارک میں کنگھی کی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا : تم نے ابو عبداللہ کو کیسا پایا ؟ میں نے عرض کیا : اے ابا جان : میں نے انھیں بہت بہتر پایا ہے۔ آپ نے فرمایا : اس کا اکرام کرتی رہو چونکہ وہ اخلاق میں میرے ساتھ صحابہ میں سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ (رواہ الطبرانی وابو نعیم فی المعرفۃ والدیلمی وابن عساکر وقانع قال البخاری لا اراہ حفظہ لان رقبۃ مانت ایام بدر و ابوہریرہ ھاجر بعد ذالک بحو خمس سنین ایام خیبر ولا یعرف لمطلب سماعد من ابوہریرہ ولا لمحمد ابن المطلب ولا تقوم بہ الحجۃ انتھی)