36247- عن أبي إسحاق قال: قال رجل لعلي بن طالب: إن عثمان في النار، قال: ومن أين علمت؟ قال: لأنه أحدث أحداثا، فقال له علي: أتراك لو كانت لك بنت أكنت تزوجها حتى تستشير؟ قال: لا، قال: أفرأي هو خير من رأي رسول الله صلى الله عليه وسلم لابنتيه؟ وأخبرني عن النبي صلى الله عليه وسلم أكان إذا أراد أمرا يستخير الله أو لا يستخيره؟ قال: لا بل كان يستخيره، قال: أفكان الله يخير له أم لا؟ قال: بل يخير له، قال: فأخبرني عن رسول الله صلى الله عليه وسلم اختار الله في تزويجه عثمان أم لم يختر له؟ ثم قال له: لقد تجردت لك لأضرب عنقك فأبى الله ذلك، أما والله لو قلت غير ذلك ضربت عنقك. "كر".
٣٦٢٤٧۔۔۔ ابو اسحاق کی روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) بن ابی طالب (رض) سے کہا عثمان دوزخ میں جائیں گے حضرت علی (رض) نے فرمایا : تمہیں کہاں سے اس کا علم ہوا ہے اس نے کہا چونکہ عثمان نے نئے نئے امور پیدا کیے ہیں حضرت علی (رض) نے اس سے فرمایا : مجھے بتاؤ بالفرض اگر تمہاری بیٹی ہو اس سے مشورہ کیے بغیر اس کی شادی کرا دو گے جواب دیا نہیں فرمایا : کیا یہ رائے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے جو انھوں نے اپنی بیٹیوں کے متعلق قائم کی تھی وہ بہتر ہے مجھے بتاؤ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی معاملہ کا ارادہ کرتے تو اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے تھے یا نہیں ؟ اس نے جواب دیا : بلکہ آپ استخارہ کرتے تھے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہتر راستہ فراہم کرتے تھے یا نہیں جواب دیا جی ہاں بہتر راہ فراہم کرتے تھے حضرت علی (رض) نے فرمایا : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق خبر دو کہ اللہ تعالیٰ نے عثمان (رض) کی شادی کے متعلق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اختیار دیا ہے یا کہ نہیں پھر حضرت علی (رض) نے فرمایا : میں نے ارادہ کیا تھا کہ تیری گردن اڑادوں لیکن اللہ تعالیٰ سے ناپسند فرماتا ہے اگر اس کے علاوہ تمہارا کوئی اور عقیدہ ہو تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ (رعاہ ابن عساکر)