hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36257

.

كنز العمال

36257
Kanz al-Ummal
36248- عن أبي الجنوب عن علي قال: لقد صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثمان أمرا ما صنعه بي ولا بأبي بكر ولا بعمر، قلتا: وما صنع به؟ قال: كنا حول رسول الله صلى الله عليه وسلم جلوسا وقدمه وساقه مكشوفة إلى رأس ركبته وساقه في ماء بارد كان يضرب عليه عضلة ساقه فكان إذا جعله في ماء بارد سكن عنه، فقلت: يا رسول الله! ما لك لا تكشف عن الركبة؟ فقال: إن الركبة من العورة يا علي! فبينا نحن حوله إذ طلع علينا عثمان فغطى ساقه وقدمه بثوبه، فقلت: سبحان الله يا رسول الله! كنا حولك وساقك وقدمك مكشوفة فلما طلع علينا عثمان غطيته! فقال: ألا أستحيي ممن تستحيي منه الملائكة؟ ثم طلع علينا عمر فقال: يا رسول الله! ألا أعجبك من عثمان؟ قال: وماذاك؟ قال: مررت به آنفا وهو حزين كثيب فقلت: يا عثمان! ما هذا الحزن والكآبة التي بك؟ قال: مالي لا أحزن يا عمر وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: كل نسب وصهر مقطوع يوم القيامة إلا نسبي وصهري - وقد قطع صهري من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فعرضت عليه حفصة بنت عمر فسكت عني، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عمر! أفلا أزوج حفصة من هو خير من عثمان؟ قال: بلى يا رسول الله! فتزوج رسول الله حفصة في ذلك المجلس وزوج عثمان بنته الأخرى، فقال بعض من حسد عثمان: بخ بخ يا رسول الله! تزوج عثمان بنتا بعد بنت! فأي شرف أعظم من ذا؟ قال: لو كان لي أربعون بنتا زوجت عثمان واحدة بعد واحدة حتى لا تبقى منهن واحدة، ونظر إلى عثمان فقال: يا عثمان! أين أنت وبلوى تصيبك من بعدي؟ قال: ما أصنع يا رسول الله؟ قال: صبرا صبرا يا عثمان حتى تلقاني والرب عنك راض. "ص، كر".
٣٦٢٤٨۔۔۔ ابو جنوب (عقبہ بن علقمہ یشکری کوفی) حضرت علی (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کے ساتھ ایسا معاملہ کیا ہے جو نہ میرے ساتھ کیا نہ ابوبکر کے ساتھ نہ عمر کے ساتھ ہم نے عرض کیا : بھلا کیا معاملہ کیا ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ کے پاؤں اور پنڈلیاں گٹھنوں تک ننگی تھیں اور پنڈلیاں ٹھنڈے پانی میں ڈال رکھی تھیں چونکہ آپ کو اس سے سکون ملتا تھا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ گٹھنے کو کیوں ننگا نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : اے علی ! گٹھنہ ستر کی جگہ ہے اسی دوران ہم آپ کے اردگرد بیٹھے تھے اچانک عثمان (رض) نمودار ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی پنڈلی اور پاؤں کپڑے سے ڈھانپ دئیے میں نے عرض کیا : سبحان اللہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے پاس بیٹھے تھے آپ کے پاؤں اور پنڈلیاں ننگی تھیں لیکن جب عثمان نمودار ہوئے تو آپ نے فوراً ڈھانپ دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں اس شخص سے حیاء نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں ؟ پھر عمر (رض) ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں عثمان کے متعلق آپ کو ایک عجیب بات نہ سناؤں فرمایا : وہ کیا عمر (رض) نے عرض کیا : میں ابھی ابھی عثمان کے پاس سے گزرا اور وہ غمزدہ و پریشانی میں بیٹھے تھے میں نے کہا : اے عثمان ! یہ غم اور پریشانی کیسی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اے عمر (رض) میں غمزوہ و پریشان کیوں نہ ہوں حالانکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہوجائے گا سوائے میرے نسب اور رشتہ کے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ میرا جو رشتہ قائم تھا وہ ٹوٹ چکا ہے چنانچہ میں نے عثمان کو اپنی بیٹی حفصہ (رض) کا رشتہ پیش کیا لیکن وہ خاموش رہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! کیا میں حفصہ (رض) کی شادی ایسے شخص سے نہ کردوں جو عثمان سے بہتر ہو ؟ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! چنانچہ اسی مجلس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حفصہ (رض) سے شادی کرلی اور عثمان (رض) سے اپنی بیٹی کی شادی کرا دی چنانچہ حضرت عثمان سے بغض حسد رکھنے والے کہنے لگے نہیں نہیں یا رسول اللہ ! آپ ایک بیٹی کے بعد دوسری بیٹی کی شادی بھی عثمان سے کرا رہے ہیں اسے سے بڑھ کر عثمان (رض) کے لیے اور کونسا شرف ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر میری چالیس بیٹیاں ہوتیں میں ایک کے بعد دوسری کا عثمان سے نکاح کردیتا حتی کہ ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہتی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کی طرف دیکھ کر فرمایا : اے عثمان ! اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تمہیں میرے بعد آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا عثمان (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اس وقت کیا کروں آپ نے فرمایا اے عثمان ! اس وقت بس صبر ہی صبر ہے حتیٰ کہ میرے ساتھ تمہاری ملاقات ہوجائے اور رب تعالیٰ تم سے راضی ہو۔ (رواہ سعید بن المنصور وابن عساکر)