36268- "أيضا" عن أبي حازم عن أنس قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم في حائط من حوائط المدينة فجاء أبو بكر فاستأذن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: افتح له وبشره بالجنة، فجلس على رأس البئر ودلى رجليه كما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم صنع، ثم جاء عمر فاستأذن،فقال: افتح له وبشره بالجنة، فدخل فصنع مثل ما رآهم صنعوا، ثم استأذن علي، فقال: افتح له وبشره بالجنة، فصنع مثل ما رآهم صنعوا، ثم جاء عثمان، قال: افتح له وبشره بالجنة بعد بلاء شديد يصيبه، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم غطى ركبتيه، فقالوا: يا رسول الله! مالك لم تصنع هذا حين جئنا وصنعته حين جاء عثمان؟ فقال: ألا استحيي من رجل يستحيي منه الملائكة. "كر".
٣٦٢٦٨۔۔۔ ” ایضاً “ ابو حازم حضرت انس (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں تھے اتنے میں ابوبکر (رض) آئے اور اجازت طلب کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو چنانچہ ابوبکر (رض) بھی کنویں کے منڈیر پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھ گئے جس طرح کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیے ہوئے دیکھا پھر عمر (رض) آئے اور انھوں نے اجازت طلب کی آپ (رض) فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو عمر (رض) بھی داخل ہوئے اور انھوں نے بھی ایسے ہی کیا جیسے انھیں دیکھا پھر علی (رض) نے اجازت طلب کی آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو چنانچہ علی (رض) نے بھی ایسا ہی کیا جیسے انھیں دیکھا (یعنی انھوں نے بھی کنویں میں ٹانگیں لٹکا دیں) پھر عثمان آئے اور آپ نے فرمایا : ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں بھی جنت کی بشارت دو لیکن انھیں ایک سخت آزمائش سے پالا پڑے گا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عثمان (رض) کو دیکھا اپنے گھٹنے کپڑے سے ڈھانپ دئیے صحابہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! جب ہم آئے آپ نے ایسا نہیں کیا لیکن عثمان آئے آپ نے گھٹنوں پر کپڑا کردیا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اس شخص سے حیاء کرتا ہوں جس سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں (رواہ ابن عساکر