36267- "مسند أنس" عن أبي حصين عن المبارك بن فلفل أخي المختار بن فلفل عن أنس قال: جاء النبي صلى الله عليه وسلم فدخل إلى بستان فأتى آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة والخلافة من بعدي، قلت: يا رسول الله! أعلمه؟ فقال: أعلمه، فخرجت فإذا أبو بكر، قلت له: أبشر بالجنة وأبشر بالخلافة من رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم جاء آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة وبالخلافة من بعد أبي بكر قلت: يا رسول الله! أعلمه؟ فقال: أعلمه، فخرجت فإذا عمر، فقلت: أبشر بالجنة وأبشر بالخلافة من بعد أبي بكر، ثم جاء آت فدق الباب، فقال: يا أنس! قم فافتح له الباب وبشره بالجنة وبالخلافة من بعد عمر وأنه مقتول، فخرجت فإذا عثمان، قلت: أبشر بالجنة وبالخلافة من بعد عمر وأنك مقتول، فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! والله ما تغنيت ولا تمنيت ولامسست ذكري بيميني منذ بايعتك بها، قال: هو ذاك يا عثمان.
"كر"، ورواه "ع، كر" من طريق عبد الله بن إدريس عن المختار بن فلفل عن أنس.
٣٦٢٦٧۔۔۔ ” مسند انس “ ابو حصین مبارک بن فلفل اخ مختار بن فلفل کی سند سے حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم تشریف لائے اور باغ میں داخل ہوئے اتنے میں ایک شخص آیا اور دروازے پر دستک دی آپ نے فرمایا : اے انس کھڑے ہوجاؤ اور دروازہ کھولو اور آنے والے کو جنت اور میرے بعد خلافت کی خوشخبری دو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں اسے بتادوں کی بشارت ہے پھر ایک نے ۔۔۔ والا آیا اور دروازے پر دستک دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے انس ! کھڑے ہوجاؤ اور دروازہ کھولو اور اے جنت اور ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری سناؤ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں اسے بتادوں ؟ فرمایا : اسے بتادو میں نکل پڑا دیکھتا ہوں کہ عمر (رض) کھڑے ہیں میں نے آپ کے لیے جنت اور ابوبکر کے بعد خلافت کی خوشخبری ہے پھر ایک اور شخص آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا آپ نے فرمایا اے انس ! کھڑے ہو اور دروازہ کھولو اور اسے جنت اور عمر کے بعد خلافت کی خوشخبری دو اور یہ کہ اسے قتل کیا جائے گا میں باہر نکلا دیکھا تو حضرت عثمان (رض) کھڑے تھے میں نے کہا آپ کے لیے جنت اور خلافت کی خوشخبری ہے نیز آپ کو قتل کیا جائے گا چنانچہ عثمان (رض) اندر داخل ہوئے اور عرض کیا ! یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے نہ گانا گایا نہ اس کی تمنا کی اور جب سے آپ کے دست اقدس پر بیعت کی ہے تب سے اپنا ہاتھ شرمگاہ سے مس نہیں کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! یہ معاملہ اسی طرح ہوگا۔ (رواہ ابن عساکر وابو یعلی وابن عساکر من طریق عبداللہ بن ادریس عن المختار بن فلفل عن انس)
کلام :۔۔۔ حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرہ الحفاظ ٢٦٠٢۔