hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36280

.

كنز العمال

36280
Kanz al-Ummal
36271- "مسند عثمان" عن أبي سلمة بن عبد الرحمن قال:أشرف عثمان من القصر وهو محصور فقال: أنشد بالله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حراء إذا اهتز الجبل فركله1 برجله ثم قال له: اسكن حراء! فليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد - وأنا معه، فانتشد له رجال، فقال: أنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم بيعة الرضوان إذ بعثني إلى المشركين إلى أهل مكة قال: هذه يدي وهذه يد عثمان رضي الله عنه فبايع لي، فانتشد له رجال، قال: أنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يوسع لنا بهذا البيت في المسجد ببيت له في الجنة؟ فابتعته بمالي فوسعت به، فانتشد له رجال، قال: وأنشد بالله من شهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم جيش العسرة قال: من ينفق اليوم نفقة متقبلة؟ فجهزت نصف الجيش من مالي، فانتشد له رجال، قال: وأنشد بالله من شهد رومة يباع ماؤها لابن السبيل، فابتعتها بمالي وأبحتها لابن السبيل، قال: فانتشد له رجال. "حم، ن" والشاشي، "قط" وابن أبي عاصم، "ص".
٣٦٢٧١۔۔۔ ” مسند عثمان “ ابوسلمہ بن عبد الرحمن کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) اپنے گھر سے جھانکے جب کہ آپ گھر ہی میں محصور کیے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اس شخص کو جس نے حراء کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنا ہو جب کہ حرار پہاڑ جھومنے لگا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور پھر فرمایا : اے حراء رک جاؤ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے میں آپ کے ساتھ تھا لوگوں نے عثمان (رض) کی بات کی تصدیق کی پھر فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جو بیعت رضوان کے موقع پر حاضر تھا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین اہل مکہ کے پاس بھیجا تھا اور آپ نے فرمایا تھا : یہ ہاتھ میرا ہے اور یہ ہاتھ عثمان کا ہے چنانچہ آپ نے خود میرے لیے بیعت کی چنانچہ لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا۔ پھر فرمایا : میں اس شخص کو واسطہ دیتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھا جب آپ نے فرمایا تھا : کون شخص اس گھر کو خرید کر مسجد میں توسیع کرے گا اس کے بدلہ میں اس کے لیے جنت میں گھر ہوگا ؟ چنانچہ میں نے گھر خرید کر مسجد میں توسیع کردی لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا۔ پھر عثمان (رض) نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جیش عسرت کے موقع پر حاضر تھا آپ نے فرمایا تھا : کون شخص آج کے دن مقبول خرچہ کرے ؟ چنانچہ نصف لشکر کو میں نے اپنے مال سے ساز و سامان فراہم کیا لوگوں نے آپ کا واسطہ قبول کیا : پھر آپ نے فرمایا : میں اس شخص کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جو بئر رومہ کے موقع پر حاضر تھا کہ اس کا پانی مسافروں کیلئے خرید کر صدقہ کردیا جائے میں نے اپنے دل سے وہ کنواں خریدا اور مسافروں کے لیے وقف کردیا لوگوں نے آپ کا یہ واسطہ بھی تسلیم کیا۔ (رواہ احمد بن حنبل والنسائی والشاشی والدار قطنی وابن ابی عاصم و سعید بن المنصور