36272- "أيضا" عن الأحنف بن قيس قال: انطلقنا حجاجا فمررنا بالمدينة فدخلنا المسجد فإذا علي بن أبي طالب والزبير وطلحة وسعد بن أبي وقاص فلم يكن بأسرع من أن جاء عثمان عليه ملاءة صفراء قد قنع بها رأسه فقال: أههنا علي؟ قالوا: نعم، قال: أههنا الزبير؟ قالوا: نعم، قال: أههنا طلحة؟ قالوا: نعم، قال: أههنا سعد؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يبتاع مربد بني فلان غفر الله له، فابتعته بعشرين ألفا أو بخمسة وعشرين ألفا، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني قد ابتعته، فقال: اجعله في مسجدنا وأجره لك؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يبتاع بئر رومة غفر الله له، فابتعتها بكذا وكذا، فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: إني قد ابتعتها، فقال: اجعلها سقاية للمسلمين وأجرها لك؟ قالوا: نعم؛ قال: أنشدكم بالله الذي لا إله إلا هو أتعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نظر في وجوه القوم يوم جيش العسرة فقال: من يجهز هؤلاء غفر الله له، فجهزتهم حتى ما يفقدون خطاما ولا عقالا؟ قالوا: نعم؛ قال اللهم اشهد! اللهم اشهد! اللهم اشهد ثم انصرف. "ش، حم، ن، ع" وابن خزيمة، "حب، قط" وابن أبي عاصم في السنة، "ض".
٣٦٢٧٢۔۔۔ ” ایضا “ احنف بن قیس کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم حج کی نیت سے چلے اور مدینہ سے گزرے ہم مسجد میں داخل ہوئے مسجد میں علی بن ابی طالب زبیر، طلحہ، سعید بن ابی وقاص بیٹھے تھے تھوڑی دیر کے بعد حضرت عثمان (رض) تشریف لائے آپ پر زرد رنگ کی چادر تھی جس سے آپ نے سر ڈھانپ رکھا تھا آپ (رض) نے فرمایا : کیا یہاں علی ہیں لوگوں نے جواب دیا جی ہاں فرمایا کیا یہاں ؟ زبیر ہیں ؟ جواب دیا : جی ہاں فرمایا : کیا یہاں طلحہ (رض) ہیں ؟ جواب دیا : جی ہاں فرمایا : کیا یہاں سعید (رض) ہیں : جواب دیا جی ہاں آپ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں مگر وہی کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو شخص بئر رومہ خریدے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائے گا میں نے وہ کنواں اتنے اتنے درہم میں خریدا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میں نے وہ کنواں خرید لیا ہے آپ نے فرمایا : اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے وقف کردو اس کا اجر وثواب تمہیں ملے گا صحابہ (رض) ع نہم نے کہا جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کیا تمہیں معلوم کے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جیش عسرہ کے موقع پر لوگوں کی طرف دیکھ کر فرمایا : جو شخص لشکر کو سازو سامان سے لیس کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائے گا : چنانچہ لشکر کو میں نے ساز و سامان سے لیس کیا حتی کہ فوجیوں نے نکیل اور رسی تک کی معمولی چیز بھی گم نہیں پائی صحابہ (رض) نے کہا : جی ہاں حضرت عثمان (رض) نے فرمایا اللہ گواہ رہنا یا اللہ گواہ رہنا پھر آپ واپس لوٹ گئے۔ (رواہ ابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والنسائی وابو یعلی وابن خزیمۃ وابن حبان والدار قطنی وابن ابی عاصم فی السنۃ والضیاء)