hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36286

.

كنز العمال

36286
Kanz al-Ummal
36277- "أيضا" عن شقيق قال: لقي عبد الرحمن بن عوف الوليد بن عقبة فقال له الوليد: مالي أراك قد جفوت أمير المؤمنين عثمان؟ فقال له عبد الرحمن: أبلغه أني لم أفر يوم عينين - يعني يوم أحد - ولم أتخلف يوم بدر ولم أترك سنة عمر، قال فانطلق فخبر ذلك عثمان، قال فقال: أما قوله: إني لم أفر يوم عينين، فكيف يعيرني بذلك وقد عفا الله عني؟ فقال: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} وأما قوله: إني تخلفت عن بدر، فإني كنت أمرض رقية بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى ماتت وقد ضرب لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهمي، ومن ضرب له رسول الله صلى الله عليه وسلم بسهمه فقد شهد؛ وأما قوله إني لم أترك سنة عمر، فإني لا أطيقها ولا هو، فأته فحدثه بذلك."حم، ع، طب" والبغوي في مسند عثمان، "ض".
٣٦٢٧٧۔۔۔ ” ایضا “ شقیق کی روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کی ولید بن عقبہ سے ملاقات ہوئی ولید نے عبد الرحمن (رض) سے کہا : آپ کیوں امیر المومنین عثمان (رض) سے کنارہ کش ہوئے عبد الرحمن (رض) نے جواب دیا : عثمان (رض) کو میرا پیغام پہنچا دو کہ میں احد کے موقع پر جنگ سے نہیں بھاگا جنگ بدر میں بھی پیچھے نہیں رہا ہوں اور عمر کی سنت کو بھی نہیں ترک کیا چنانچہ ولید نے جا کر عثمان (رض) کو اس کی خبر کی آپ (رض) نے فرمایا : وہ جو کہتے ہیں کہ میں جنگ اور میں بھاگا نہیں ہوں، مجھے اس کی عار کیوں دلا رہے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے :
ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استر لھم الشیطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنھم
جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے ان روگردانی کی انھیں شیطان نے پھسلا دیا تھا ان کے بعض اعمال کی وجہ سے البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔ اور ان کا یہ کہنا کہ میں بدر میں پیچھے نہیں رہا ہوں میں تو رقیہ بنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تیمار داری میں لگا ہوا تھا بالآخر وہ وفات پاگئیں جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مال غنیمت سے حصہ دیا تھا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حصہ دے دیں گویا وہ حاضر تھا اور رہا ان کا یہ کہنا کہ میں نے سنت عمر کو نہیں چھوڑا بلاشبہ میں اس کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ ہی عبدالرحمن اس کی طاقت رکھتے ہیں ان کے پاس جاؤ اور انھیں یہ بتادو ۔ (رواہ احمد بن حنبل وابو یعلی والطبرانی والبغوی فی مسند عثمان والضیاء)