hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36289

.

كنز العمال

36289
Kanz al-Ummal
36280- عن ثمامة بن حزن القشيري قال: شهدت الدار حين أشرف عليهم عثمان فقال: أنشدكم بالله وبالإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قدم المدينة وليس بها ماء يستعذب غير بئر رومة فقال: من يشتري بئر رومة فيجعل دلوه مع دلاء المسلمين بخير له منها في الجنة، فاشتريتها من صلب مالي؟ فأنتم اليوم تمنعوني أن أشرب منها حتى أشرب من ماء البحر! قالوا: اللهم نعم، فقال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن المسجد ضاق بأهله فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يشتري بقعة آل فلان فيزيدها في المسجد بخير له منها في الجنة، فاشتريتها من صلب مالي؟ فأنتم اليوم تمنعوني أن أصلي فيها ركعتين! قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم بالله وبالإسلام هل تعلمون أني جهزت جيش العسرة من مالي؟ قالوا: اللهم نعم، قال: أنشدكم بالله والإسلام هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على ثبير مكة ومعه أبو بكر وعمر وأنا فتحرك الجبل حتى تساقطت حجارته بالحضيض قال: فركضه برجله فقال: اسكن ثبير! فإنما عليك نبي وصديق وشهيدان؟ قالوا: اللهم نعم، قال: الله أكبر شهدوا لي ورب الكعبة أني شهيد ثلاثا. "ت" وقال حسن1 ن، ع وابن خزيمة، "قط" وابن أبي عامر، "ق، ض".
٣٦٢٨٠۔۔۔ ثمامثہ بن حزن قشیری کی روایت ہے کہ بلوی کے موقع پر میں موجود تھا جب عثمان (رض) نے لوگوں پر جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے اس وقت ” بشر رومہ “ کے علاوہ مدینہ میں میٹھا پانی کہیں بھی دستیاب نہیں تھا آپ (رض) نے فرمایا : جو شخص روم کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے موقف کرے گا اسے جنت میں اس سے بہتر صلہ ملے گا چنانچہ میں نے کنواں اپنے ذاتی مال سے خریدا ؟ جب کہ تم مجھے آج اس کنویں سے پانی پینے سے روک رہے ہو اور میں سمندر کا پانی پی رہا ہوں لوگوں نے اس کا اعتراف کیا۔ آپ نے پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص آپ فلاں کی زمین خرید کر مسجد میں اضافہ کرے گا اسے جنت میں اس سے بہتر صلہ ملے گا چنانچہ میں نے اپنے ذاتی مال سے وہ زمین خرید کرے مسجد میں اضافہ کردیا حالانکہ تم آج اس میں دو رکعت نماز پڑھنے سے مجھے روک رہے ہو۔ لوگوں نے اعتراف کرتے ہوئے کہا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ جیش عسرت کو میں نے اپنے مال سے سازو سامان فراہم کیا : لوگوں نے کہا : جی ہاں : پھر آپ (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ اور اسلام کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ کے ثبیر پہاڑ پر تھے آپ کے ساتھ ابوبکر عمر اور میں تھا اچانک پہاڑ حرکت میں آگیا حتیٰ کہ حرکت کی وجہ سے پہاڑ سے پتھر گرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور فرمایا اے ثبیر رک جا تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا دو شہید ہیں۔ لوگوں نے کہا : جی ہاں آپ (رض) نے فرمایا : اللہ اکبر رب کعبہ کی قسم ان لوگوں نے گواہی دے دی کہ میں شہید ہوں۔ آپ نے تین بار فرمایا۔ (رواہ الترمذی وقال حسن والنسائی وابو یعلی وابن خزیمہ والدار قطنی وابن ابی عامر والبیہقی والضیاء)