36279- "أيضا" عن أبي عبد الرحمن السلمي قال: لما حصر عثمان أشرف عليهم فوق داره ثم قال: أذكركم بالله هل تعلمون أن حراء حين انتفض قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اث بت حراء! فليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد، قالوا: نعم، قال أذكركم بالله هل تعلمون أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال في جيش العسرة من ينفق نفقة متقبلة - والناس مجهدون معسرون، فجهزت ذلك الجيش؟ قالوا نعم، ثم قال: أذكركم بالله تعلمون أن رومة لم يكن يشرب منها أحد إلا بثمن فابتعتها فجعلتها للغني والفقير وابن السبيل؟ قالوا: اللهم نعم - وأشياء عدها."ت"، قال: حسن صحيح،2 ن والشاشي وابن خزيمة، "حب" والبغوي في مسند عثمان، "ك، ص، قط، ق".
٣٦٢٧٩۔۔۔ ” ایضاً “ ابو عبد الرحمن سلمی کی روایت ہے کہ جب عثمان (رض) کا محاصرہ جاری تھا آپ نے بلوائیوں پر گھر کے اوپر سے جھانک کر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کراتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ حراء پہاڑ ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے حراء ثابت قدم رہ چونکہ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے بلوائیوں نے کہا : جی ہاں یاد ہے آپ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کراتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ تبوک کے موقع پر فرمایا : کون شخص لشکر کے اخراجات برداشت کرے گا جب کہ لوگ تنگدستی کا شکار تھے میں نے ہی لشکر کا سازوسامان سے لیس کیا تھا ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر یاد کرواتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ رومہ کے کنویں سے کوئی شخص پانی نہیں پی سکتا تھا الا یہ کہ کوئی پیسوں سے خریدلے چنانچہ میں نے وہ کنواں خرید کر مالدار فقیر و مسافر کے لیے وقف کردیا ؟ لوگوں نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے کہا جی ہاں اس کے علاوہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت ساری چیزیں کیں۔ (رواہ الترمذی وقال : حسن صحیح والنسائی والشاشی وابن حزیمۃ وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان والحاکم و سعید بن المنصور والدارقطنی والبیہقی)