36282- "أيضا" عن سعيد بن المسيب قال: رفع عثمان صوته على عبد الرحمن بن عوف فقال له عبد الرحمن: لأي شيء ترفع صوتك وقد شهدت بدرا ولم تشهد، وبايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تبايع، وفررت يوم أحد ولم أفر؟ فقال له عثمان: أما قولك: أنك شهدت بدرا ولم أشهد، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفني على ابنته وضرب لي بسهم وأعطاني أجري، وأما قولك: بايعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم أبايع، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثني إلى أناس من المشركين وقد علمت ذلك فلما احتبست ضرب بيمينه على شماله فقال: هذه لعثمان بن عفان، فشمال رسول الله صلى الله عليه وسلم خير من يميني، وأما قولك: فررت يوم أحد ولم أفر، فإن الله تعالى قال: {إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ} فلم تعيرني بذنب قد عفا الله عنه.البزار، "كر"
٣٦٢٨٢۔۔۔ سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عثمان (رض) نے حضرت عبد الرحمن بن عوف پر آواز بلند کردی عبد الرحمن (رض) نے ان سے فرمایا : تم اپنی آواز کیوں بلند کرتے ہو حالانکہ میں بدر میں شریک تھا جب کہ تم شریک نہیں تھے میں نے۔ (حدیبیہ کے موقع پر) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دست اقدس پر بیعت کی اور میں نے (عثمان نے) بیعت نہیں کی سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مشرکین کے پاس بھیجا تھا تمہیں اس کا علم بھی ہے جب مجھے تاخیر ہوگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا : یہ ہاتھ عثمان بن عفان کا ہے۔ پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بایاں ہاتھ میرے دائیں ہاتھ سے افضل ہے اور رہا تمہارا یہ کہنا کہ ” تم غزوہ احد میں بھاگ گئے تھے میں نہیں بھاگا سو اس متعلق اللہ تعالیٰ فرمایا ہے :
” ان الذین تولو منکم یوم التقی الجمعان انما استزلھم الشیان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنم “
بیشک تم میں سے جن لوگوں نے دو جماعتوں کے باہم مقابل ہونے کے دن روگردانی کی تو ان کے بعض اعمال کی وجہ سے شیطان نے انھیں پھیلا دیا البتہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کردیا ہے۔
لہٰذا آپ مجھے اس گناہ کے ذریعے کیوں رسوا کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے مجھے معاف کردیا ہے۔ (رواہ البزار وابن عساکر