hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36326

.

كنز العمال

36326
Kanz al-Ummal
36317- عن نافع بن عبد الحارث قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم حائطا من حيطان المدينة وقال لي: أمسك على الباب، فجاء حتى جلس على القف1 ودلى رجليه في البئر، فضرب الباب، فقلت: من هذا؟ قال: أبو بكر، قلت: يا رسول الله؟ هذا أبو بكر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب، فقلت: من هذا؟ فقال: عمر، قلت: يا رسول الله! هذا عمر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب فقلت: من هذا؟ فقال: عثمان، فقلت: يا رسول الله! هذا عثمان، قال: ائذن له وبشره بالجنة معها بلاء، قال فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على القف ودلى رجليه في البئر. "ش"؛ وهو صحيح.
٣٦٣١٧۔۔۔ نافع بن حارث کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا : دروازے پر رک جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنویں کے کنارے بنائی گئی اونچی سی جگہ پر آکر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا کون ہے ؟ جواب ملا ابوبکر ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ ابوبکر ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دو ابوبکر (رض) بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں پر لٹکائیں پھر دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا : کون ہے جواب دیا : عمر ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ عمر ہیں فرمایا : انھیں اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو نافع (رض) کہتے ہیں میں نے انھیں اجازت دی اور جنت کی بشارت بھی دی وہ بھی آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں پھر دروازے پر دستک ہوئی میں نے کہا : کون ہے ؟ جواب ملا عثمان ہوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ عثمان ہیں فرمایا : اجازت دو اور جنت کی بشارت بھی دو لیکن ساتھ ساتھ آزمائش کا بھی انھیں سامنا کرنا ہوگا نافع (رض) کہتے ہیں میں نے انھیں اجازت دی اور جنت کی بشارت بھی دی چنانچہ وہ بھی آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ منڈیر پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں کنویں میں لٹکا دیں۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وھو صحیح)