36318- عن زيد بن ثابت قال: كانت عندي أم سعد بن الربيع فزارهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بالأسواف1 فعملوا له غداء وبسطوا له نطعا، فدق الباب إنسان فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: انظروا من هذا؟ قالوا: هذا أبو بكر، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة، ثم دق آخر فقال: انظروا من هذا؟ قال: عمر، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة، ثم دق الباب آخر فقال: انظروا من هذا؟ قالوا: عثمان، قال: افتحوا له وبشروه بالجنة وسيلقى من أمتي عنا، ثم صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر والعصر في المسجد الذي في الأسواف حتى اجتمع إليه بعض أصحابه.
"كر".
٣٦٣١٨۔۔۔ زید بن ثابت کی روایت ہے کہ میرے پاس ام سعد بن ربیع (رض) تھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسواف میں ہم سے ملنے آئے گھر والوں نے آپ کے لیے ناشتہ تیار کیا اور دستر خوان بچھایا اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دیکھو یہ کون ہے گھر والوں نے کہا ابوبکر ہیں فرمایا ان کے لیے دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت وہ پھر دوسرے شخص نے دروازے پر دستک دی فرمایا : دیکھو یہ کون ہے ؟ گھر والوں نے کہا عمر ہیں فرمایا دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت دو پھر ایک اور شخص نے دروازے پر دستک دی فرمایا : دیکھو یہ کون ہے ؟ گھر والوں نے کہا : عثمان ہیں فرمایا : دروازہ کھولو اور انھیں جنت کی بشارت بھی دو عنقریب میری امت کی طرف سے انھیں آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ظہر و عصر کی نماز اسواف میں واقع مسجد میں نماز پڑھی حتیٰ کہ آپ کے پاس آپ کے بعض صحابہ (رض) بھی جمع ہوگئے۔ (رواہ ابن عساکر)