36335- "مسند عثمان" عن عبد الملك بن هارون بن عنترة عن أبيه عن جده قال: دخل محمد بن أبي بكر على عثمان فقال له عثمان: يا ابن أخي! أنشدك بالله هل تعلم أن النبي صلى الله عليه وسلم زوجني ابنتيه إحداهما بعد الأخرى ثم قال: ألا أبا أيم ألا أخا أيم يزوجها عثمان؟ فلو كان عندنا شيء زوجناه، وتركت بيعة الرضوان فبايع لي رسول الله صلى الله عليه وسلم بيديه إحداهما على الأخرى وقال: هذه لي وهذه لعثمان، فكانت يد رسول الله صلى الله عليه وسلم أطهر وأطيب من يدي؟ قال نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من يشتري هذا النخل فيقوم قبلة المسجد وضمن له رسول الله صلى الله عليه وسلم نخلة في الجنة؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن المسلمين جاعوا جوعا شديدا فجئت بالانطاع فبسطتها ثم صببت عليه الحوارى1 ثم جئت بالسمن والعسل فخلطت به وكان أول خبيص أكلوه في الإسلام؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن المسلمين ظمأوا ظمأ شديدا فاحتفرت بئرا فأعظمت عليها النفقة ثم تصدقت بها على المسلمين؛ الضعيف فيها والقوي سواء؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أن الميرة انقطعت عن المدينة حتى جاع الناس فخرجت إلى بقيع الغرقد فوجدت خمسة عشر راحلة عليها طعام فاشتريتها وحبست منها ثلاثة وأتيت النبي صلى الله عليه وسلم باثنتي عشرة راحلة، فدعا لي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: بارك الله لك فيما أعطيت وبارك لك فيما أمسكت؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أني أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم بألف أصفر فصببتها في حجر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: استعن بها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما ضر عثمان ما عمل بعد اليوم؟ قال: نعم، قال: فأنشدك بالله هل تعلم أني كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على جبل حراء فرجف بنا فضربه النبي صلى الله عليه وسلم بقدمه فقال: اسكن حراء! فإنه ليس عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد - وعلى الجبل يومئذ رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وعثمان وعلي وطلحة والزبير - قال: نعم."ابن أبي عاصم في السنة".
٣٦٣٣٥۔۔۔” مسند عثمان “ عبد الملک بن ہارون بن عنترہ اپنے والد و دادا سے روایت نقل کرتے ہیں کہ محمد بن ابوبکر حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے ان سے حضرت عثمان رضی الہ عنہ نے فرمایا : اے بھیجے ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے میری شادی کرائی پھر آپ (رض) نے فرمایا : اے ابو ایم اے اخوایم کیا عثمان کی شادی کرا دی جائے ؟ اگر ہمارے پاس کوئی لڑکی ہوئی ہم اس کی شادی کرا دیتے میں نے بیعت رضوان چھوڑ دی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا ہاتھ دوسرے پر رکھا اور میرے لیے بیعت کردی اور فرمایا : یہ ہاتھ میرا ہے اور یہ عثمان کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہاتھ سے پاکیزہ و افضل تھا ؟ محمد بن ابی بکر نے کہا جی ہاں عثمان (رض) نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں علم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا : جو شخص اس باغ کو خرید کر مسجد کا قبلہ درست کرے گا میں اس کے لیے جنت میں باغ کی ضمانت دیتا ہوں محمد بن ابوبکر نے کہا : جی ہاں پھر عثمان (رض) نے کہا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں علم ہے کہ مسلمان سخت بھوک کا شکار ہوگئے تھے میں نے بہت سارے دسترخواں پھیلائے اس پر روٹیاں ڈالیں پھر گھی اور شہد ڈالا اور سب کچھ ملا دیا یہ پہلا حلوہ ہے جو اسلام میں کھایا گیا ؟ کہا جی ہاں۔ فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں۔ کیا تمہیں معلوم ہے کہ مسلمان سخت پیاسے ہوگئے تھے میں نے بہت بھاری خرچہ برداشت کرکے کنواں کھدوایا پھر وہ کنواں مسلمان پر صدقہ کردیا کمزور قوی سب برابر تھے ؟ کہا : جی ہاں فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ مدینہ سے غلہ ختم ہوگیا حتی کہ لوگ مرنے لگے ہیں بقیع خرقہ کی طرف گیا وہاں پندرہ اونٹ غلے سے لدے کھڑے تھے میں نے انھیں خرید لیا ان میں سے تین روک ہے اور بارہ اونٹ لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے لیے دعا فرمائی کہ جو کچھ تم نے دیا ہے اس میں اللہ برکت کرے اور جو تم نے اپنے لیے رکھ لیا ہے اس میں بھی برکت کرے کہا جی ہاں مجھے علم ہے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں ایک ہزار دینار لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور دینار آپ کی گود میں ڈال دئیے اور میں نے کہا : یا رسول اللہ ! ان سے مدد لیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بعد عثمان جو عمل بھی کرے اسے نقصان نہیں پہنچائے گا کہا جی ہاں مجھے معلوم ہے۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حرا، پہاڑ پر تھا اتنے میں پہاڑ ہلنے لگا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہاڑ پر پاؤں مارا اور فرمایا : اے صراء رک جا تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے اس دن پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر عثمان علی، طلحہ ، اور زبیر (رض) تھے ؟ محمد بن ابی بکر نے کہا : جی ہاں۔ (رواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ)