36336- "أيضا" عن صعصعة بن معاوية الليثي قال: أرسل عثمان وهو محصور إلى علي وطلحة والزبير وأقوام من الصحابة فقال: احضروا غدا وتكونوا حيث تسمعون ما أقول لهذه الخارجة، ففعلوا وأشرف عليهم فقال: أنشد الله من سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري هذا المربد ويزيده في مسجدنا وله الجنة وأجره في الدنيا ما بقي درجات له، فاشتريته بعشرين ألفا وزدته في المسجد؟ قالوا: اللهم! نعم، وقال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، ثم قال: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من يجهز جيش العسرة وله الجنة، فجهزتم حتى ما فقدوا عقالا ولا خطاما؟ قالوا: نعم، فقال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، ثم قال: أنشد الله من سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من يشتري رومة وله الجنة! فاشتريتها فقال: اجعلها للمساكين ولك أجرها والجنة؟ قالوا: اللهم! نعم، قال الخوارج: صدقوا ولكنك غيرت، وعدد أشياء وقال: الله أكبر ويلكم خصمتم والله! كيف يكون من يكون هذا له مغيرا، يا أيها النفر من أهل الشورى! اعلموا أنهم سيقولون لكم غدا كما قالوا لي اليوم. فلما خرجوا بعد علي جعل علي ينشد الناس عن مثل ذلك ويشهد له به فيقولون: صدقوا ولكنك غيرت، فقال: ما اليوم قتلت ولكني قتلت يوم قتل ابن بيضاء."سيف، كر".
٣٦٣٣٦۔۔۔ ” ایضاً “ صعصعہ بن معاویہ لیثی کی روایت ہے کہ حضرت عثمان (رض) محصور تھے آپ نے پیغام بھجوا کر حضرت علی (رض) طلحہ زبیر اور بعض دوسرے صحابہ (رض) کو بلایا فرمایا : صبح حاضر ہوجاؤ اور ایسی جگہ پر آؤ جہاں سے تم مجھے سن سکو کہ میں ان بلوائیوں کے بارے میں کیا کہتا ہوں چنانچہ صبح کو یہ حضرات صحابہ کرام (رض) تشریف لائے عثمان (رض) نے ان پر اوپر سے جھانک کر فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں اس شخص کو جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جو شخص اس باڑے کو خرید کو مسجد میں اضافہ کرے گا اس کے لیے جنت ہوگی دنیا میں سے اجر وثواب ملے گا اور جب تک مسجد باقی رہے گی اس کے درجات بلند ہوتے رہیں گے میں نے وہ بارہ بیس ہزار دراہم کا خرید کر مسجد میں شامل کردیا : لوگوں نے کہا : جی ہاں جب کہ خوارج نے کہا : انھوں نے سچ کہا لیکن آپ نے اسے بدل دیتا ہے پھر فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کسی شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ : جو شخص رومہ کا کنواں خرید لے گا اس کے لیے جنت ہے چنانچہ رومہ کا کنواں میں نے خریدا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے مساکین کے لیے صدقہ کردو تمہارے لیے اجر وثواب اور جنت ہوگی لوگوں نے کہا : جی ہاں جب کہ خوارج کے کہا : انھوں نے سچ کہا لیکن آپ نے اسے بدل دیا ہے ان کے علاوہ بھی آپ نے بہت ساری چیزیں گئیں عثمان (رض) نے کہا : اللہ اکبر ۔ تمہاری ہلاکت ! بخدا تم جھگڑ رہے ہو جس شخص کا یہ منصب ہو وہ کیسے بدل سکتا ہے اے اہل شوری کی جماعت ! جان لو ! یہ لوگ کل تم سے بھی اسی طرح کہیں گے جس طرح مجھ سے آج کہہ رہے ہیں۔ چنانچہ جب لوگوں نے حضرت علی (رض) کے دور میں خروج کیا حضرت علی (رض) بھی اسی طرح انھیں واسطے دیتے ان کی تائید میں گواہی دی جاتی لیکن خوارج کہتے انھوں نے سچ کہا لیکن آپ بدل چکے ہیں حضرت علی (رض) فرماتے : مجھے آج نہیں قتل کیا جا رہا ہے بلکہ میں تو اس دن قتل کردیا گیا ہوں جس دن ابن بیضاء (عثمان (رض)) قتل کئے گئے تھے۔ (رواہ سیف وابن عساکر)