hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36347

.

كنز العمال

36347
Kanz al-Ummal
36337- "أيضا" عن الهزيل قال: دخل طلحة على عثمان فقال له عثمان: أنشدك بالله يا طلحة! هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان على حراء فقال: اقرر حراء! فإن عليك نبيا أو صديقا أو شهيدا - وكان عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر وعمر وأنا وعلي وأنت والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن مالك وسعيد بن زيد؟ ثم قال: أنشدك بالله يا طلحة! هل تعلم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: النبي في الجنة وأبو بكر في الجنة وعمر في الجنة وعثمان في الجنة وعلي في الجنة وطلحة في الجنة والزبير في الجنة وعبد الرحمن بن عوف في الجنة وسعد ابن مالك في الجنة وسعيد بن زيد في الجنة؟ قال: اللهم! نعم، قال: نشدتك بالله لتعلم أن سائلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم فأعطاه أربعين درهما ثم سأل أبا بكر فأعطاه أربعين درهما ثم سأل عمر فأعطاه أربعين درهما ثم سأل عليا فلم يكن عنده شيء فأعطيته أربعين عن علي وأربعين عني فجاء بها إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله ادع الله لي بالبركة، فقال: وكيف لا يبارك لك وإنما أعطاك نبي أو صديق أو شهيد؟ قال: اللهم! نعم. "كر".
٣٦٣٣٧۔۔۔ ” ایضاً “ ھزیل کی روایت ہے کہ طلحہ (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس داخل ہوئے حضرت عثمان (رض) نے کہا : اے طلحہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کیا : آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حراء پہاڑ پر تھے آپ نے فرمایا تھا۔ اے حراء ! قرار پکڑ تجھ پر یا تو نبی ہے یا صدیق ہے یا شہید ہے چنانچہ پہاڑ پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابوبکر عمر میں علی آپ زبیر عبد الرحمن بن عوف سعد بن مالک اور سعید بن زید (رض) تھے پھر کہا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا نبی جنت میں ابوبکر جنت میں عمر جنت میں عثمان جنت میں علی جنت میں طلحہ جنت میں زبیر جنت میں عبد الرحمن بن عوف جنت میں سعید بن مالک جنت میں اور سعید بن زید جنت میں کہا : جی ہاں میں چاہتا ہوں میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ ایک سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے چالیس درہم عطا کئے پھر ابوبکر سے سوال کیا : انھوں نے بھی چالیس درہم عطا کیے پھر عمر (رض) سے سوال کیا ۔ انھوں نے بھی اسے چالیس درہم عطا کیے پھر علی (رض) سے سوال کیا چنانچہ ان کے پاس کچھ نہیں تھا میں نے چالیس درہم اپنی طرف سے اور چالیس درہم علی (رض) کی طرف سے اسے عطا کیے وہ شخص دراہم لے کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے لیے برکت کی دعا کریں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیسے برکت نہیں ہوگی تجھے تو یا نبی نے عطا کیا ہے یا صدیق نے یا شہید نے ؟ طلحہ (رض) نے کہا : جی ہاں۔ (رواہ ابن عساکر)