36380- عن علي قال: بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن فانتهينا إلى قوم قد بنوا زيبة للأسد، فبينا هم يتدافعون إذ سقط رجل فتعلق بآخر ثم تعلق رجل آخر حتى صاروا فيها أربعة فجرحهم الأسد فانتدب له رجل بحربة فقتله وماتوا من جراحهم كلهم، فقام أولياء المقتول الأول إلى أولياء المقتول الثاني فأخرجوا السلاح ليقتتلوا، فأتاهم على تفيئة ذلك فقال: تريدون أن تقتتلوا ورسول الله صلى الله عليه وسلم حي؟ إني أقضي بينكم بقضاء إن رضيتم فهو القضاء وإلا حجز بعضكم عن بعض حتى تأتوا النبي صلى الله عليه وسلم فيكون هو الذي يقضي بينكم، فمن عدا بعد ذلك فلا حق له، اجمعوا من قبائل هؤلاء الذين حفروا البئر ربع الدية وثلث الدية ونصف الدية والدية كاملة، فللأول الربع لأنه هلك بمن فوقه وللثاني ثلث الدية وللثالث نصف الدية وللرابع الدية كاملة؛ فأبوا أن يرضوا فأتوا النبي صلى الله عليه وسلم وهو عند مقام إبراهيم فقصوا عليه القصة فقال: أنا أقضي بينكم واحتبى، فقال: رجل من القوم: إن عليا قضى بيننا، فقصوا عليه القصة فأجازه النبي صلى الله عليه وسلم - وفي لفظ: فقال النبي صلى الله عليه وسلم: القضاء كما قضى علي. "ط، ش، حم" وابن منيع وابن جرير وصححه، "ق" وضعفه.
٣٦٣٨٠۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا چنانچہ ہم ایسی قوم کے پاس جا پہنچے کہ انھوں نے سیر کو ہلاک کرنے کے لیے گڑھا کھود رکھا تھا وہ اسی راستے سے آتے جاتے تھے اچانک ایک شخص گڑھے میں جا گرا وہ دوسرے کے ساتھ لٹکا اور دوسرے تیسرے کے ساتھ یوں چار آدمی ہوگئے شیر نے انھیں سخت زخمی کردیا اسی اثناء میں ایک شخص نے حربے سے شیر کو ہلاک کردیا۔ (چنانچہ زخموں کی تاب نہ لاکر چاروں مرگئے) پہلے مقتول کے ورثاء نے دوسرے مقتول کے ورثاء سے مطالبہ کردیا فریقین نے تلواریں نکال لیں ، قریب تھا کہ ان میں خنجر پر جنگ چھڑ جاتی اتنے میں حضرت علی (رض) نے انھیں آن لیا اور فرمایا : تم آپس میں لڑنا چاہتے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زندہ ہیں میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں بشرطیکہ تم اسے مان لو ورنہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جاؤ اور وہ جو فیصلہ کردیں وہی فیصلہ ہوگا۔ اس کے بعد بھی جو شخص روگردانی کرے پھر اسے کوئی حق نہیں ۔ چنانچہ وہ قبایل جنہوں نے یہ کنواں کھودا ہے وہ چوتھائی دیت تہائی دیت نصف دیت اور کامل دیت جمع کرلیں پہلے مقتول کے لیے چوتھائی دیت ہے چونکہ وہ اپنے اوپر والوں کی وجہ سے ہلاک ہوا ہے دوسرے کے لیے تہائی دیت تیسرے کے لیے نصف دیت اور چوتھے کے لیے کامل دیت لوگوں نے یہ فیصلہ ماننے سے انکار کردیا اور وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پاس آگئے اور آپ اس وقت مقام ابراہیم کے پاس تھے لوگوں نے سارا واقعہ سنا دیا ارشاد فرمایا : میں تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہوں آپ (رض) ہاتھ باندھ کر بیٹھ گئے قوم میں سے ایک شخص بولا علی (رض) نے ہمارے درمیان فیصلہ کردیا ہے لوگوں نے فیصلے کا بھی پورا قصہ سنایا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے فیصلہ کی توثیق فرمائی ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فیصلہ وہی ہے جو علی (رض) نے کردیا ہے۔ (رواہ الطبرانی وابن ابی شیبہ وابن منیع جریر و صحیح والبیہقی وضعفہ)