hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36429

.

كنز العمال

36429
Kanz al-Ummal
36419- عن علي قال: لما نزلت هذه الآية على رسول الله صلى الله عليه وسلم {وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ} دعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا علي! إن الله أمرني أن أنذر عشيرتي الأقربين، فضقت بذلك ذرعا وعرفت أني مهما أناديهم بهذا الأمر أرى منهم ما أكره فصمت عليها حتى جاءني جبريل فقال: يا محمد! إنك إن لم تفعل ما تؤمر به يعذبك ربك، فاصنع لي صاعا من طعام واجعل عليه رجل شاة واجعل لنا عسا من لبن ثم اجمع لي بني عبد المطلب حتى أكلمهم وأبلغ ما أمرت به، ففعلت ما أمرني به ثم دعوتهم له وهم يومئذ أربعون رجلا يزيدون رجلا أو ينقصونه، فيهم أعمامه: أبو طالب وحمزة والعباس وأبو لهب، فلما اجتمعوا إليه دعاني بالطعام الذي صنعته لهم فجئت به، فلما وضعته تناول النبي صلى الله عليه وسلم جشب1 حزبة من اللحم فشقها بأسنانه ثم ألقاها في نواحي الصحفة ثم قال: كلوا بسم الله، فأكل القوم حتى نهلوا عنه، ما نرى إلا آثار أصابعهم، والله! إن كان الرجل الواحد منهم ليأكل مثل ما قدمت لجميعهم، ثم قال: اسق القوم يا علي! فجئتهم بذلك العس، فشربوا منه حتى رووا جميعا، وأيم الله! إن كان الرجل منهم ليشرب مثله. فلما أراد النبي صلى الله عليه وسلم أن يكلمهم بدره2 أبو لهب إلى الكلام فقال: لقد شحركم صاحبكم، فتفرق القوم ولم يكلمهم النبي صلى الله عليه وسلم، فلما كان الغد فقال: فقال: يا علي! إن هذا الرجل قد سبقني إلى ما سمعت من القول فتفرق القوم قبل أن أكلمهم فعد لنا مثل الذي صنعت بالأمس من الطعام والشراب ثم اجمعهم لي، ففعلت ثم جمعتهم، ثم دعاني بالطعام فقربته، ففعل به كما فعل بالأمس، فأكلوا وشربوا حتى نهلوا، ثم تكلم النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا بني عبد المطلب! إني والله ما أعلم شابا في العرب جاء قومه بأفضل ما جئتكم به! إني قد جئتكم بخير الدنيا والآخرة وقد أمرني الله أن أدعوكم إليه، فأيكم يؤازرني على أمري هذا؟ فقلت وأنا أحدثهم سنا وأرمصهم1 عينا وأعظمهم بطنا وأحمشهم2 ساقا: أنا يا نبي الله أكون وزيرك عليه! فأخذ برقبتي فقال: إن هذا أخي ووصيي وخليفتي فيكم فاسمعوا له وأطيعوا، فقام القوم يضحكون ويقولون لأبي طالب: قد أمرك أن تسمع وتطيع لعلي. "ابن إسحاق وابن جرير وابن أبي حاتم وابن مردويه وأبو نعيم، "حق" معا في الدلائل.
٣٦٤١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ جب آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا : اے علی ! مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈر سناؤں لیکن اس پر میری قدرت نہیں ہے بسا اوقات میں اس کا اعلان کرتا ہوں لیکن جب ان کی طرف سے ناگواری دیکھتا ہوں تو خاموش ہوجاتا ہوں حتیٰ کہ میرے پاس جبرائیل امین تشریف لائے اور فرمایا : اے محمد ! جو تمہیں حکم ملا ہے اسے اگر بجا نہیں لاؤ گے تو رب تعالیٰ تمہیں عذاب دے گا لہٰذا تم میرے لیے ایک صاع کھانا تیار کرو اس پر بکری کی ایک دستی رکھو ہمارے لیے دودھ سے مشروب تیار کرو پھر میرے پاس بنی عبد المطلب کو جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں اور جو مجھے حکم ملا ہے میں اس کی تبلیغ کروں چنانچہ میں نے کھانا تیار کیا اور بنی عبد المطلب کو دعوت دی، اس وقت ان کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی ان میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابو طالب حمزہ عباس ابو لھب بھی شامل تھے جب یہ لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے مجھے کھانا حاضر کرنے کو کہا میں نے کھانا حاضر کردیا آپ نے قدرے گوشت میں سے قدرے سخت ٹکڑا اٹھایا اسے دانتوں سے چبایا اور برتن کے کناروں میں ڈال دیا پھر فرمایا : بسم اللہ ! کھانا شروع کرو لوگوں نے جی بھر کر کھانا کھایا حتیٰ کہ بےنیاز ہوگئے کھانا بھی باقی تھا برتن میں ہم صرف انگلیوں کے نشانات ہی دیکھتے تھے حالانکہ جو کھانا پیش کیا تھا وہ ایک ہی آدمی کے لیے کافی تھا پھر فرمایا : اے علی ! قوم کو مشروب پلاؤ میں لوگوں کے پاس مشروب لے آیا لوگوں نے اس میں سے پیا اور سیر ہوگئے حالانکہ وہ ایک ہی آدمی کے لیے کافی تھا چنانچہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بات کرنے کا ارادہ کیا ابو لہب جلدی سے بول اٹھا : کہ تمہارا صاحب بات کرچکا ہے لہٰذا چلو لوگ اٹھ کر چلے گئے تاہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کے سامنے بات نہ رکھ سکے دوسرے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! یہ شخص مجھ پر سبقت لے گیا جس کی وجہ سے لوگ اٹھ کر چلے گئے اور میں بات نہ کرسکا لہٰذا کل کی طرح آج بھی کھانا اور مشروب تیار کرو پھر انھیں ہمارے پاس جمع کرو۔ میں نے کھانا تیار کیا پھر لوگوں کو بلایا آپ نے ایسے ہی کیا جیسے کل کیا تھا لوگوں نے کھایا پیا اور سیر ہوگئے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلام کیا اور فرمایا : اے بنی عبد المطلب میں نہیں جانتا کہ عرب میں کوئی نوجوان ان تعلیمات سے افضل لائے جو میں لایا ہوں میں تمہارے پاس دنیا و آخرت کی بھلائی لایا ہوں ۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں اس کی دعوت دوں تم میں سے کون اس معاملہ میں مجھے تقویت پہنچائیے گا ؟ میں نے عرض کیا اس کام کے لیے میں تیار ہوں حالانکہ میں قوم میں سب سے چھوٹا میری آنکھوں میں سب سے زیادہ کیچڑا میرا پیٹ بڑا اور میری پنڈلیاں تاریک تھیں میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! اس معاملہ میں میں آپ کا وزیر بنتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے گردن سے پکڑ لیا اور فرمایا : یہ میرا بھائی ، میرا وصی اور خلیفہ ہے اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ لوگ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے : اس نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم علی کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (رواہ ابن اسحاق وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم والبیہقی فی الدلائل)