36420- "مسند البراء بن عازب" قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فنزلنا بغدير خم فنودي: الصلاة جامعة! وكسح لرسول الله صلى الله عليه وسلم تحت شجرة فصلى الظهر فأخذ بيد علي فقال: ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ قالوا: بلى، فقال: ألستم تعلمون أني أولى بكل مؤمن؟ من نفسه، قالوا: بلى، فأخذ بيد علي فقال؛ اللهم! من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم! وال من والاه وعاد من عاداه؛ فلقيه عمر بعد ذلك فقال: هنيئا لك يا ابن أبي طالب! أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة. "ش".
٣٦٤٢٠۔۔۔ ” مسند براء بن عازب “ ہم ایک سفر میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے اتنے میں منادی نے اعلان کیا : الصلاۃ جامعۃ ایک درخت کے نیچے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جگہ صاف کی گئی آپ نے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر حضرت علی (رض) کو ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں۔ پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں۔ پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہو ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں کیوں نہیں پھر فرمایا : تمہیں معلوم نہیں کہ میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہو ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا : جی ہاں : کیوں نہیں۔ آپ نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : یا اللہ ! میں جس کا دوست ہوں علی بھی اس کا دوست ہے یا اللہ ! جو علی کو دوست رکھتا ہو تو بھی اسے دوست رکھ جو علی کا دشمن ہو تو بھی اس کا دشمن ہوجا۔ اس کے بعد حضرت عمر (رض) کی حضرت علی (رض) سے ملاقات ہوئی عمر (رض) نے فرمایا : اے علی تجھے مبارک ہو صبح و شام تم ہر مومن مردو ہر مومن عورت کے دوست ہو۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)