36444- عن عمران بن حصين قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية واستعمل عليهم عليا فغنموا فصنع علي شيئا أنكروه - وفي لفظ: فأخذ علي من الغنيمة جارية - فتعاقد أربعة من الجيش إذا قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يعلموه، وكانوا إذا قدموا من سفر بدؤا برسول الله صلى الله عليه وسلم فسلموا عليه ونظروا إليه ثم ينصرفون إلى رحالهم، فلما قدمت السرية سلموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام أحد الأربعة فقال: يا رسول الله! ألم تر أن عليا قد أخذ من الغنيمة جارية؟ فأعرض عنه، ثم قام الثاني فقال مثل ذلك فأعرض عنه، ثم قام الثالث فقال مثل ذلك فأعرض عنه، ثم قام الرابع فأقبل إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرف الغضب في وجهه فقال: ما تريدون من علي؟ علي مني وأنا من علي وعلي ولي كل مؤمن بعدي. "ش" وابن جرير وصححه.
٣٦٤٤٤۔۔۔ عمران حصین کی روایت ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سریہ روانہ کیا اور ان پر حضرت علی (رض) کو امیر مقرر کیا سریہ کو کافی مقدار میں مال غنیمت ملا علی (رض) نے مال غنیمت سے کچھ لے لیا جسے لوگوں نے اچھا نہ سمجھا۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی (رض) نے باندی لے لی تھی چنانچہ لشکر میں سے ایک کے بعد دوسرا لگاتار چار آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتانے کی غرض سے آئے صحابہ (رض) جب کبھی سفر سے واپس لوٹتے تھے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوتے اور آپ کو سلام کرتے تھے اور آپ کا دیدار کرکے واپس لوٹ جاتے تھے جب سریہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس واپس آیا چار میں سے ایک کھڑا ہوا اور کہا : یا رسول اللہ ! آپ نہیں دیکھتے کہ علی (رض) نے مال غنیمت میں سے ایک باندی لے لی ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منہ پھیرلیا دوسرا کھڑا ہو اس نے بھی یہی بات کہی آپ نے اس سے بھی منہ پھر لیا پھر تیسرا کھڑا ہو اس نے بھی یہی بات کی آپ نے اس سے بھی منہ پھیرلیا پھر چوتھا کھڑا ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ کے چہرے اقدس پر غصہ کے اثرات پہنچانے جاسکتے تھے آپ نے فرمایا : تم علی سے کیا چاہتے ہو ؟ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں میرے بعد علی ہر مومن کا ولی ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ وابن حریر و صحیحہ)