36443- عن عمار بن ياسر قال: كنت أنا وعلي رفيقين في غزوة العشيرة من بطن ينبع، فلما نزلها رسول الله صلى الله عليه وسلم أقام بها شهرا فصالح فيها بين بني مدلج وحلفائهم من ضمرة فوادعهم، فقال لي علي: هل لك يا أبا اليقظان أن تأتي هؤلاء نفر من بني مدلج يعملون في عين لهم فننظر كيف يعملون؟ فأتيناهم فنظرنا إليه ساعة ثم غشينا النوم فعمدنا إلى صور من النخل في دقعاء من الأرض فنمنا فيه، فوالله ما أهبنا إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم بقدمه! فجلسنا وقد تتربنا من تلك الدقعاء فيومئذ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعلي: يا أبا تراب! لما عليه من التراب، فأخبرناه بما كان من أمرنا، فقال: ألا أخبركما بأشقى رجلين؟ قلنا: بلى يا رسول الله! قال: أحيمر ثمود الذي عقر الناقة والذي يضربك يا علي على هذه - ووضع رسول يده على رأسه - حتى تبل منها هذه - ووضع يده على لحيته. "كر" وابن النجار.
٣٦٤٤٣۔۔۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) کی روایت ہے کہ میں اور علی (رض) غزوہ عشیرہ میں بطن ینبوع کے مقام پر ایک دوسرے کے رفیق سفر تھے چنانچہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہاں نزول کیا تو ایک ماہ تک ٹھہرے رہے اور اس دوران بنی مدلج اور ان کے خلفاء قبیلے بنی ضمرہ سے صلح کی پھر آپ ان سے رخصت ہوگئے حضرت علی (رض) نے مجھے کہا : اے ابو یفظان ! تمہیں شوق ہے کہ ہم بنی مدلج کے ان لوگوں کے پاس جائیں جو کنواں کھودنے کے کام میں مصروف ہیں ذرا ہم انھیں دیکھیں کہ یہ لوگ کیسے کام کرتے ہیں ؟ ہم ان لوگوں کے پاس آئے تھوڑی دیر انھیں دیکھتے رہے پھر ہمارے اوپر نیند طاری ہوگئی ہم کھجودوں کے درختوں تلے خاکدارسی جگہ پر آگئے ہم اس جگہ سوگئے بخدا ! ہم صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قدموں کی چاپ سن کر بیدار ہوئے اس خاکدار جگہ کی وجہ سے ہمارے بدن بھی خاک آلود ہوگئے تھے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اے ابو تراب ! چونکہ علی (رض) کے بدن پر تراب (خاک) اٹی پڑی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں کچھ بتایا اور پھر فرمایا میں تمہیں ایسے دو شخصوں کی خبر نہ دوں جو سب سے زیادہ بدبخت ہیں ہم نے عرض کیا : جی ہاں یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : قوم ثمود کا احیمر جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں اے علی دوسرا وہ شخص جو تمہیں یہاں ضرب لگائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر اشارہ کیا۔ حتیٰ کہ تمہاری یہ جگہ خون آلود ہوجائے گی آپنے حضرت علی (رض) کی داڑھی پر ہاتھ رکھا۔ رواہ ابن عساکر وابن النجار