36464- ثنا إبراهيم بن موسى الرازي - وليس بالفراء - ثنا أبو معاوية - بإسناد مثله هذا الشيخ لا أعرفه ولا سمعت منه غير هذا الحديث - انتهى كلام ابن جرير. وقد أورد ابن الجوزي في الموضوعات حديث علي وابن عباس وأخرج "ك" حديث ابن عباس وقال: صحيح الإسناد، وروى "خط" في تاريخه عن يحيى بن معين أنه سئل عن حديث ابن عباس فقال: هو صحيح، وقال: "عد" في حديث ابن عباس: إنه موضوع، وقال الحافظ صلاح الدين العلائي: قد قال ببطلانه أيضا الذهبي في الميزان وغيره ولم يأتوا في ذلك بعلة قادحة سوى دعوى الوضع دفعا بالصدر، وقال الحافظ ابن حجر في لسانه: هذا الحديث له طرق كثيرة في مستدرك الحاكم أقل أحوالها أن يكون الحديث أصلا فلا ينبغي أن يطلق القول عليه بالوضع، وقال في فتوى هذا الحديث: أخرجه "ك" في المستدرك وقال: إنه صحيح وخالفه ابن الجوزي فذكره في الموضوعات وقال: إنه كذب والصواب خلاف قولهما معا وأن الحديث من قسم الحسن لا يرتقى إلى الصحة ولا ينحط إلى الكذب، وبيان ذلك يستدعي طولا ولكن هذا هو المعتمد في ذلك انتهى. وقد كنت أجيب بهذا الجواب دهرا إلى أن وقفت على تصحيح ابن جرير لحديث علي في تهذيب الآثار مع تصحيح "ك" لحديث ابن عباس فاستخرت الله وجزمت بارتقاء الحديث من مرتبة الحسن إلى مرتبة الصحة - والله أعلم.
٣٦٤٦٤۔۔۔ ابراہیم بن موسیٰ رازی (یہ فراء نہیں ہے) ابو و معاویہ باسناد مثل بالا میں اس شیخ کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس سے اس حدیث کے علاوہ کوئی اور حدیث سنی ہے۔ انتھی یہ کلام ابن جریر ابن جوزی نے علی (رض) اور ابن عباس (رض) کی حدیث (میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے) کو موضوعات میں ذکر کیا ہے جب کہ ابن عساکر نے ابن عباس (رض) کی حدیث ذکر کی ہے اور اسے صحیح الاسناد کہا ہے خطیب نے اپنی تاریخ میں روایت کیا ہے کہ یحییٰ بن معین سے ابن عباس (رض) کی حدیث کے متعلق استفسار کیا گیا۔ انھوں نے جواب دیا۔ یہ حدیث صحیح ہے جب کہ ابن عدی نے ابن عباس (رض) کی حدیث کو موضوع قرار دیا ہے حافظ صلاح الدین علائی کہتے ہیں : میزان میں ذہبی وغیرہ نے بھی اس حدیث کے بطلان کا قول اختیار کیا ہے لیکن سوائے اس کے موضوع ہونے کے اس میں کوئی علت قادحہ نہیں بیان کی جب کہ حافظ ابن حجر (رح) کہتے ہیں : مستدرک میں اس حدیث کے بہت سے طرق نقل کیے گئے ہیں جو کم از کم اس بات پر دال ہیں کہ اس حدیث کی کوئی نہ کوئی اصل ہے لہٰذا اس کے موضوع ہونے کا اطلاق مناسب نہیں ہے اس حدیث پر فتوی یا نہ رویہ اختیار کرتے ہوئے کہتے ہیں : حاکم نے مستدرک میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ابن جوزی نے اسے موضوعات میں ذکر کیا ہے یہ جھوٹ ہے تاہم حق بات ان دونوں کے خلاف ہے چنانچہ یہ حدیث قسم حسن سے ہے صحیح تک نہیں پہنچی اور خذب تک مرتبہ میں نہیں کرتی اس میں بحث طویل ہے لیکن قابل اعتماد بات اتنی ہی ہے مصنف (رح) کہتے ہیں میں عرصہ تک اس حدیث کا یہی جواب دیتا رہا حتیٰ کہ مجھے تہذیب الآثار میں علی (رض) کی حدیث سے متعلق ابن جریر کی تصحیح پر واقفیت ہوئی جب کہ حاکم نے ابن عباس (رض) کی حدیث کو صحیح گردانا ہے میں نے اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا پھر مجھے جزم و یقین ہوگیا کہ یہ حدیث مرتبہ حسن سے مرتبہ صحیح تک پہنچی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم۔