36478- وبهذا الإسناد عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي! ليس في القيامة راكب غيرنا ونحن أربعة، فقام رجل من الأنصار فقال: فداك أبي وأمي! فمن هم؟ قال: أنا على البراق: وأخي صالح على ناقته التي عقرت، وعمي حمزة على ناقتي العضباء، وأخي علي على ناقة من نوق الجنة بيده لواء الحمد ينادي: لا إله إلا الله محمد رسول الله، فيقول الآدميون: ما هذا إلا ملك مقرب أو نبي مرسل أو حامل عرش، فيجيبهم ملك من بطنان العرش: يا معشر الآدميين! ليس هذا ملكا مقربا ولا نبيا مرسلا ولا حامل عرش، هذا الصديق الأكبر علي بن أبي طالب.قلت: قال الشيخ جلال الدين السيوطي: هكذا وقع لنا في هذا الإسناد أحمد بن عامر رواية غير ابنه عنه، وقد قال الذهبي: عبد الله بن أحمد بن عامر عن أبيه، من أهل البيت، له نسخة باطلة، فما اتهم إلا الابن دون الأب، وهذا الطريق من رواية غير الابن والأب موثق، فأما أن تكون هذه متابعة للابن فيخرج عن التهمة فإن هذه النسخة وغيرها من النسخ المحكوم ببطلانها ليس كلها باطلة بل غالبها، وفيها أحاديث لها أصل، وإما أن يكون هذا التابع ممن يسرق الحديث فسرقه من الأبن وحدث به عن الأب بغير واسطة كما هو دأب سراق الأحاديث،ولم أقف لهذا الرجل على ترجمة، وللحديث الأخير شاهد من حديث ابن عباس إلا ابن الجوزي أورده في الموضوعات وللحديث الأول شاهد.
٣٦٤٧٨۔۔۔ اسی اسناد سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! قیامت کے دن ہم چار کے علاوہ کوئی شخص سوار نہیں ہوگا انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہو اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں وہ چار اشخاص کون ہوں گے ؟ ارشاد فرمایا : میں براق پر سوار ہوں گا، میرے بھائی صالح (علیہ السلام) اس اونٹنی پر سوار ہوں گے جس کی کونچیں کاٹ دی گئیں تھیں میرے چچا حمزہ (رض) عضباء پر سوار ہوں گے میرا بھائی علی جنت کی اونٹنی پر سوار ہوگا اس کے ہاتھ میں لوائے حمد ہوگا اور اعلان کررہا ہوگا : لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، آدمی کہیں گے یہ کوئی مقرب فرشتہ ہے یا نبی مرسل ہے یا عرش کا اٹھانے والا فرشتہ ہے چنانچہ عرش کے نیچے سے ایک فرشتہ انھیں جواب دے گا اے آدمیوں کی جماعت یہ مقرب فرشتہ نہیں ہے نہ نبی مرسل ہے اور نہ ہی حامل عرش ہے بلکہ یہ صدیق اکبر علی بن ابی طالب ہے۔
کلام :۔۔۔ مصنف کہتے ہیں۔ جلال الدین سیوطی (رح) نے تبصرہ کیا ہے ہماری اسناد میں اسی طرح احمد بن عامر واقع ہوا ہے جب کہ اس کے علاوہ دوسری روایتوں میں ابنی عنہ کا طریقہ ہے حافظ ذہبی کہتے ہیں عبداللہ ابن احمد بن عامر عن ابیہ اہل بیت میں سے ہے اس کا ایک باطل نسخہ ہے تہمت بیٹے پر لگائی گئی ہے باپ پر نہیں لگائی گئی یہ روایت بیٹے کے علاوہ ہے جب کہ باپ کی توثیق کی گئی ہے اگر یہ سند بیٹے کی متابعت میں ہو تو وہ تہمت سے نکل جاتا ہے یہ باطل نسخہ اور اس کے علاوہ دوسرے باطل نسخے مکمل طور پر بطلان کا شکار نہیں بلکہ ان کی اکثریت باطل ہے۔ بلکہ ان میں بعض احادیث ایسی ہیں کہ ان کی اصل موجود ہے اگرچہ یہ تابع سرقہ حدیث سے ہو تو بیٹے۔ (ابن) سے اس کا سرقہ ہوا ہے اور واسطہ کے بغیر باپ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے جیسا کہ سارقین حدیث کی عادت ہے میں دس شخص کے حالات سے واقف نہیں ہوں دوسری حدیث کا ابن عباس کی حدیث شاہد ہے البتہ اسے ابن جوزی نے موضاعات میں شمار کیا ہے اور پہلی حدیث کا شاہد بھی ہے۔
کلام :۔۔۔ حدیث قریب الوضع ہے دیکھئے اللآلی ١/٣٧٧۔