36479- عن خلف بن المبارك حدثنا شريك عن أبي إسحاق عن الحارث عن علي: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: في علي خمس خصال لم يعطها نبي في أحد قبلي، أما خصلة فإنه يقضي ديني ويواري عورتي، وأما الثانية فإنه الذائد عن حوضي، وأما الثالثة فإنه متكأة لي في طريق الحشر يوم القيامة، وأما الرابعة فإن لوائي معه يوم القيامة وتحته آدم وما ولد، وأما الخامسة فإني لا أخشى أن يكون زانيا بعد إحصان ولا كافرا بعد إيمان. "عق" وقال: ليس له أصل وخلف لا يتابع على حديثه من وجه يثبت وهو مجهول في النقل وابن الجوزي في الواهيات وله شاهد من حديث أبي سعيد يأتي شاذان بالسند المذكور إلى علي قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا علي! إذا كان يوم القيامة أتيت أنت وولدك على خيل بلق متوجين بالدر والياقوت فيأمر الله بكم إلى الجنة والناس ينظرون.
٣٦٤٧٩۔۔۔ خلف بن مبارک شریک، ابو اسحاق ، حارث کی سند سے حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : علی (رض) کے متعلق مجھے پانچ خصلتیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے قبل کسی نبی کو کسی کے لیے عطا نہیں ہوئیں ہیں پہلی یہ کہ وہ میرا قرض ادا کرے گا اور میری ستر پوشی کرے گا دوسری یہ کہ حوض کوثر سے لوگوں کو پیچھے ہٹائے گا تیسری یہ کہ قیامت کے دن حشر کے راستے پر میرا سہارا ہوگا قیامت کے دن میرا جھنڈا اس کے پاس ہوگا دوسری یہ کہ حوض کوثر سے لوگوں کو پیچھے ہٹائے گا تیسری یہ کہ قیامت کے دن حشر کے راستے پر میرا سہارا ہوگا قیامت کے دن میرا جھنڈا اس کے پاس ہوگا اس کے نیچے آدم (علیہ السلام) اور ان کی اولاد ہوگی پانچویں یہ کہ مجھے خوف نہیں کہ وہ محض ہونے کے بعد زانی ہوگا یا ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائے گا۔ (رواہ العقیلی وقال : اس حدیث کی اصل نہیں ہے اس حدیث کا ثابت شدہ تابع ہیں ہے اور خلف بن مبارک مجہول راوی ہے ابن جوزی نے اسے واھیات میں ذکر کیا ہے اس حدیث کا ایک شاھد بھی ہے جو حدیث ابی سعید ہے اور سند مذکور سے شاذان نے روایت کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی قیامت کے دن تم اور تمہاری اولاد چتکبرے گھوڑوں پر سوار ہو کر آؤ گے تمہارے سروں پر موتیوں اور یاقوت کے تاج سچے ہوں گے اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں داخل ہونے کا حکم دے گا جب کہ لوگ دیکھ رہے ہوں گے۔