36481- "مسند علي" قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا ترضى يا علي إذا جمع الله الناس في صعيد واحد حفاة عراة مشاة قد قطع أعناقهم العطش فكان أول من يدعى إبراهيم فيكسى ثوبين أبيضين ثم يقوم عن يمين العرش، ثم يفجر لي مثعب من الجنة إلى حوضي وحوضي أعرض مما بين بصرى وصنعاء فيه نجوم السماء قدحان من فضة فأشرب وأتوضأ وأكسى ثوبين أبيضين ثم أقوم عن يمين العرش، ثم تدعى فتشرب وتتوضأ وتكسى ثوبين أبيضين فتقوم معي ولا أدعى لخير إلا دعيت إليه؟ قلت: بلى. "ابن شاهين في السنة، "طس" وأبو نعيم في فضائل الصحابة، أبو الحسن الميثمي هذا حديث لا يصح وآفته عمران بن ميثم، وقال "عق": عمران بن ميثم من كبار الرافضة يروي أحاديث سوء كذب"
٣٦٤٨١۔۔۔ ” مسند علی “ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے علی ! کیا تم راضی نہیں ہو کہ جب اللہ تعالیٰ لوگوں کو ایک میدان میں پاؤں سے ننگے بدن سے ننگے پیادہ یا چلتے ہوئے جمع کرے گا پیاس سے ان کی گردنیں کٹی جا رہی ہوں گی سب سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو بلایا جائے گا انھیں دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے پھر وہ عرش کی دائیں جانب کھڑے ہوجائیں گے پھر جنت کی طرف سے میرے حوض کی جانب پانی کا ایک سیلاب سا امڈ آئے گا میرے حوض کا عرض بصری سے صنعاء تک کے درمیانی فاصلہ سے زیادہ ہوگا اس میں آسمان کے ستاروں کی مانند پیالے ہوں گے جو چاندی کے ہوں گے میں یہ پانی پیؤں گا اس سے وضو کروں گا اور مجھے دو سفید کپڑے پہنائے جائیں گے تم میرے ساتھ کھڑے ہوجاؤ گے جس خبر کے لیے مجھے بلایا جائے گا تمہیں بھی اس کی طرف ضرور بلایا جائے گا۔ میں نے عرض کیا جی ہاں میں اس سے راضی ہوں۔ (رواہ ابن شاہین فی السنۃ والطبرانی فی الاوسط وابو نعیم کی فضائل الصحابۃ وابو الحسن المیثی یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔ (بلکہ موضوع ہے) اس کی آفت عمران بن میثم ہے عقیلی کہتے ہیں : عمران بن میثم کبار رافضیوں میں سے ہے وہ جھوٹی حدیث میں روایت کرتا تھا۔