36482- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أول خلق الله يكسى يوم القيامة أبي إبراهيم فيكسى ثوبين أبيضين ثم يقام عن يمين العرش، ثم أدعى فأكسى ثوبين أخضرين ثم أقام عن يسار العرش، ثم تدعى أنت يا علي فتكسى ثوبين أخضرين ثم تقام عن يميني، أفما ترضى أن تدعى إذا دعيت وتكسى إذا كسيت وأن تشفع إذا شفعت. "قط" في العلل، وأورده ابن الجوزي في الموضوعات وقال: تفرد به ميسرة بن حبيب النهدي والحكم بن ظهير عنه والحكم كذاب: قلت: الحكم روى له "ت"، وقال فيه "خ": منكر الحديث، وروى عنه القدماء سفيان الثوري ومالك و "ك" فصحح له وقد تابع ميسرة عن المنهال عمران بن ميثم وهو الحديث الذي قبله.
٣٦٤٨٢۔۔۔ حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے پہلے جس شخص کو کپڑے پہنائے جائیں گے وہ میرے باپ ابراہیم (علیہ السلام) ہوں گے انھیں دو سفید کپڑے پہنا کر عرش کی دائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا پھر مجھے بلایا جائے گا اور مجھے دو سبز کپڑے پہنا کر عرش کی بائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا اے علی پھر تمہیں بلایا جائے گا اور تمہیں بھی دو سبز رنگ کے کپڑے پہنا کر میرے دائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا کیا تم راضی نہیں ہو کہ جب مجھے بلایا جائے اسی وقت تمہیں بھی بلایا جائے اور جب مجھے کپڑے پہنائے جائیں تمہیں بھی کپڑے پہنائے جائیں اور جب میں سفارش کروں تم بھی سفارش کرو۔ (رواہ الدارقطنی فی العلل واوردہ ابن الجوزی فی الموضاعات وقال : تفرد بہ میسرۃ بن حبیب النھدی والحکم بن طھیر عنہ جب کہ حکم جھوٹا کذاب ہے میں کہتا ہوں ترمذی نے حکم کی روایت ذکر کی ہے جب کہ امام بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا ہے وروی عنہ القدماء سفیان الثوری ومالک والمحاکم تصحح لہ وقد تابع میسرۃ عن المنھال عمران بن میثم وھو الحدیث الذی قبلہ)
کلام :۔۔۔ حدیث موضوع ہے دیکھئے التنزیۃ ١/٣٦٥۔۔۔ واللآلی ٣٧٨١۔