hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36502

.

كنز العمال

36502
Kanz al-Ummal
36492- عن زاذان قال: بينا الناس ذات يوم عند علي إذ وافقوا منه نفسا طيبة فقالوا: حدثنا عن أصحابك يا أمير المؤمنين! قال: عن أي أصحابي؟ قالوا: عن أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، قال: كل أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أصحابي، فأيهم تريدون؟ قالوا: النفر الذين رأيناك تلفظهم بذكرك والصلاة عليهم دون القوم، قال: أيهم؟ قالوا: عبد الله بن مسعود، قال: علم السنة وقرأ القرآن وكفى به علما ثم ختم به عنده، فلم يدروا ما يريد بقوله: كفى به علما، كفى بعبد الله أم كفى بالقرآن؟ قالوا: فحذيفة؟ قال: علم - أو علم اسماء المنافقين - وسأل عن المعضلات حتى عقل عنها، فإن سألتموه عنها تجدوه بها عالما، قالوا: فأبو ذر؟ قال: وعى علما وكان شحيحا حريصا على دينه حريصا على العلم وكان يكثر السؤال فيعطي ويمنع، أما! إنه قد ملئ له في وعائه حتى امتلأ، قالوا: فسلمان؟ قال: امرؤ منا وإلينا أهل البيت، من لكم بمثل لقمان الحكيم؟ علم العلم الأول وأدرك العلم الآخر وقرأ الكتاب الأول وقرأ الكتاب الآخر وكان بحرا لا ينزف، قالوا: فعمار بن ياسر؟ قال: ذاك امرؤ خلط الله الإيمان بلحمه ودمه وعظمه وشعره وبشره، لا يفارق الحق ساعة، حيث زال زال معه، لا ينبغي للنار أن تأكل منه شيئا؛ قالوا: فحدثنا عنك يا أمير المؤمنين! قال: مهلا! نهى الله عن التزكية، فقال قائل: فإن الله عز وجل يقول: {وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ} . قال: فإني أحدثكم بنعمة ربي، كنت إذا سألت أعطيت وإذا سكت ابتدئت، فبين الجوانح مني ملئ علما جما؛ فقام عبد الله بن الكوا الأعور من بني بكر بن وائل فقال: يا أمير المؤمنين! ما الذاريات ذروا؟ قال: الرياح، قال: فما الحاملات وقرا؟ قال: السحاب، قال: فما الجاريات يسرا؟ قال: السفن، قال فما المقسمات أمرا؟ قال: الملائكة، ولا تعد لمثل هذا ولا تسألني عن مثل هذا، قال: فما السماء ذات الحبك؟ قال: ذات الخلق الحسن، فما السواد الذي في جوف القمر؟ قال: أعمى سأل عن عمياء، ما العلم أردت بهذا! ويحك! سل تفقها ولا تسأل تعبثا - أوقال: تعنتا - سل عما يعنيك ودع مالا يعنيك، قال: فوالله! إن هذا ليعنيني، قال: فإن الله تعالى يقول: {وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ} السواد الذي في جوف القمر، قال: فما المجرة؟ شرج السماء، ومنها فتحت أبواب السماء بماء منهمر زمن الغرق على قوم نوح، قال: فما قوس قزح؟ قال: لا تقل: قوس قزح، فإن قزح هو الشيطان ولكنه القوس وهي أمان من الغرق، قال: فكم بين السماء إلى الأرض؟ قال: قدر دعوة عبد دعا الله لا أقول غير ذلك، قال: فكم بين المشرق والمغرب؟ قال: مسيرة يوم للشمس، من حدثك غير هذا فقد كذب، قال: فمن الذين قال الله تعالى: {وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ} قال: دعهم فقد كفيتهم، قال: فما ذو القرنين؟ قال: رجل بعثه الله إلى قوم عمالا كفرة أهل الكتاب، كان أوائلهم على حق فأشركوا بربهم وابتدعوا في دينهم وأحدثوا على أنفسهم فهم الذين يجتهدون في الباطل ويحسبون أنهم على حق ويجتهدون في الضلالة ويحسبون أنهم على هدى فضل سعيهم في الحياة الدنيا وهم يحسبون أنهم يحسنون صنعا ورفع صوته وقال: وما أهل النهروان منهم بعيد؛ فقال ابن الكوا: لا أسأل سواك ولا أتبع غيرك، قال: إن كان الأمر إليك فافعل. ابن منيع، "ض".
٣٦٤٩٢۔۔۔ زاذان کی روایت ہے ایک دن لوگ حضرت علی (رض) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے لوگوں نے جب آپ (رض) کو خوش خوش دیکھا تو کہنے لگے : اے امیر المومنین اپنے دوستوں کے متعلق کچھ ہمیں حدیثیں سنائیں فرمایا : اپنے کس دوست کے متعلق لوگوں نے کہا : اصحاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا : نبی کا ہر صحابی میرا دوست ہے ان میں سے کس کے متعلق تم چاہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : وہ جنہیں ہم آپ کے ساتھ دیکھتے ہیں اور جن کا آپ ذکر کرتے ہیں دوسرے لوگوں کے علاوہ فرمایا : ان میں سے کون ؟ لوگوں نے کہا : عبداللہ بن مسعود (رض) حضرت علی (رض) نے فرمایا : انھوں نے سنت کا علم حاصل کیا قرآن پڑھا اور علم میں کفایت کی پھر اسی پر ان کا خاتمہ ہوا چنانچہ لوگ نہ سمجھے کہ علم میں کفایت سے کیا مراد ہے اللہ کے بندے کی کفایت یا قرآن کی کفایت ؟ لوگوں نے پھر حضرت حذیفہ (رض) کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا : وہ منافقین کے نام جانتے تھے انھوں نے پیچیدہ امور کے متعلق سوال کیا حتیٰ کہ انھیں بھی سمجھ لیا اگر تم نے اس کے متعلق سوال کیا ہے تو اسے عالم پاؤ گے لوگوں نے کہا : ابو ذر (رض) نے فرمایا : انھوں نے علم یاد کیا ہے دین و علم کے حریص تھے وہ کثرت سے سوال کرتے تھے تاہم انھیں عطا کردیا جاتا تھا اور منع بھی کردیا جاتا تھا ان کا برتن علم بھر تارہا حتیٰ کہ علم سے بھر گیا لوگوں نے کہا سلمان (رض) نے فرمایا : انھوں نے علم اول ( توراۃ کا علم) بھی حاصل کیا اور علم آخر (قرآن و سنت) بھی کتاب اول بھی پڑھی کتاب آخر بھی پڑھی، علمی اعتبار سے سمندر تھے، کس میں کمی نہیں ہوئی لوگوں نے کہا : عمار بن یاسر ؟ فرمایا : یہ ایسا آدمی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گوشت خون ہڈی بال و کھال میں ایمان ملا دیا ہے وہ حق سے گھڑی بھر کے لیے بھی الگ نہیں ہوا جہاں بھی حق تھا وہ اس کے ساتھ رہے آگے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اسے کھائے لوگوں نے عرض کیا : اے امیر المومنین ! اپنے متعلق میں بتائیں فرمایا : رک جاؤ اللہ تعالیٰ نے اپنا تزکیہ کرنے سے منع فرمایا : ایک شخص نے کہا : فرمان باری تعالیٰ ہے۔ ” اما بنعمۃ ربک فحدث “ اپنے رب کی نعمت کو بیان کرو فرمایا : میں تمہیں اپنے رب کی نعمت بیان کرتا ہوں جب میں سول کرتا تھا مجھے عطا کیا جاتا تھا اور جب میں خاموش رہتا تھا مجھ سے ابتداء کرلی جاتی تھی میرا دل علم کثیر سے بھر دیا گیا عبداللہ بن بنی بکر بن وائل سے تھا کھڑا ہوا اور کہا : اے امیر المومنین ! الذاریات ذروا سے کیا مراد ہے فرمایا : اس سے مراد ہوائیں ہیں کہا : الحاملات وقرا سے کیا مراد ہے فرمایا : بادل کہا : الجاریات یسر سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : کشتیاں پوچھا مقسمات امرا سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : فرشتے دوبارہ ایسا نہیں کرنا اور نہ ہی اسے جیسے سوالات کرنے ہیں۔ پھر پوچھا : السماذات الحبک سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اندھا تاریکی کے بارے میں سوال کررہا ہے جو تم نے ارادہ کیا ہے اس میں علم نہیں ہے۔ تیری ہلاکت ! تفقہ کے لیے سوال کرو کھیل کود اور ہٹ دھرمی کے لیے سوال نہ کر بامقصد سوال کرو فضول سوال مت کرو عبداللہ بن کوا نے کہا : بخدا میری یہی مراد ہے آپ (رض) نے فرمایا : فرمان باری تعالیٰ ہے ” وجعلنا اللیل والنھار آیتن قمحونا آیۃ اللیل “ ہم نے دن اور رات کو دو نشانیاں بنایا ہے اور رات کی نشانی کو مٹا ڈالا۔ یہ وہی سیاہی ہے جو چاند کے درمیان ہے عبداللہ نے کہا : مجرہ سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : یہ آسمان کی ایک نوع ہے اس سے آسمان کے دروازے کھولے جائیں گے بہنے والے پانی سے اور اسی سے قوم نوح کو غرق کیا گیا کہا : قوس قزح سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : ایسے مت کہو قزوح تو شیطان ہے لیکن قوس غرق سے بچنے کی علامت ہے کہا : آسمان سے زمین تک کتنا فاصلہ ہے فرمایا : بندے کی دعا کے بقدر جو وہ اپنے رب تعالیٰ سے کرتا ہے میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہتا ۔ مشرق اور مغرب کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ فرمایا : سورج کے ایک دن کے چلنے کی مسافت کے بقدر جو شخص تمہیں اس کے علاوہ کچھ اور بتائے اس نے جھوٹ بولا : کہا : وہ کون ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” واحملوا قومھم دار البورا “ اور انھوں نے اپنی قوم کو ہلاکت کے ٹھکانے پر جا اترا “ فرمایا : انھیں چھوڑو ان کی کفایت کردی گئی ہے پوچھا : ذوالقرنین کون ہے ؟ فرمایا : ایک شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے کافر گورنروں کی طرف بھیجا تھا ، ان کے پہلے لوگ حق پر تھے پھر انھوں نے اپنے رب کے ساتھ شریک ٹھہرایا اپنے دین میں بدعات جاری کیں انھوں نے باطل میں اجتہاد کیا وہ گمان کرتے تھے کہ وہ حق پر ہیں گمراہ پر اجتہاد کرتے اور ہدایت پر ہونے کا گمان کرتے دنیاوی زندگی میں ان کی سعی تباہ ہوئی اہل نہروان (خوارج) ان سے دور نہیں ہیں ابن کو اء نے کہا : میں آپ کے علاوہ کسی سے سوال نہیں کروں گا اور نہ آپ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کروں گا۔ فرمایا : اگر معاملہ تمہارے ہاتھ میں ہے تو کر گزرو۔ (رواہ ابن منیع والضیاء)