36493- عن سعد قال: لا أسب عليا ما ذكرت يوم خيبر حين قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله، يفتح الله على يديه، فتطاولوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أين علي؟ فقالوا: هو رمد، قال: ادعوه فدعوه فبصق في عينيه ثم أعطاه الراية ففتح الله عليه.ابن جرير.
٣٦٤٩٣۔۔۔ حضرت سعد (رض) کی روایت ہے کہ جب مجھے خیبر کا دن یاد آتا ہے میں علی (رض) کو برا بھلا نہیں کہتا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں کل یہ جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ میں فتح نصیب فرمائے گا صحابہ اس فضیلت کو حاصل کرنے کی امیدیں کرنے لگے، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی کہاں ہے صحابہ نے عرض کیا : وہ آشوب چشم میں مبتلا ہیں فرمایا : اسے میرے پاس بلاؤ صحابہ (رض) آپ (رض) کو بلا کرلے آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں تھوکا اور پھر انھیں جھنڈا عطا کیا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر فتح عطاء فرمائی۔ (رواہ ابن جریر)