36497- عن عبد الرحمن بن عوف قال: لما افتتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها تسع عشرة أو ثمان عشرة فلم يفتحها ثم ارتحل روحة أو غدوة فنزل ثم هجر ثم قال: أيها الناس! إني فرط لكم وأوصيكم بعترتي خيرا وإن موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده! لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة أو لأبعثن إليكم رجلا مني - أو: لنفسي - فليضربن أعناق مقاتليهم وليسبن ذراريهم، فرأى الناس أنه أبو بكر أو عمر، فأخذ بيد علي فقال: هذا. "ش".
٣٦٤٩٧۔۔۔ حضرت عبد الرحمن بن عوف (رض) کی روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ فتح کیا تو آپ طائف کی طرف روانہ ہوگئے اور اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیے رکھا آپ نے طائف کو فتح نہ کیا پھر کوچ کرتے صبح کے وقت یا شام کے وقت پھر پڑاؤ کیا پھر ہجرت کرنے اور فرمایا : اے لوگو ! میں تمہارا آگے بھیجا ہوا اجر وثواب ہوں میں تمہیں اپنی عشرت کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں تمہاری وعدے کی جگہ حوض ہے قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یا تم نماز ادا کرتے رہو اور زکوۃ ادا کرتے رہو ورنہ میں تمہاری طرف ایک شخص بھیجوں گا جو تمہارے فوجیوں کی گردنیں اڑائے گا اور تمہاری اولاد کو قیدی بنائے گا وہ لوگ سمجھے کہ یہ ابوبکر و عمر ہوسکتے ہیں تاہم آپ (رض) نے حضرت علی (رض) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : وہ شخص یہ ہے۔ (رواہ ابن ابی شیبہ)