36512- "أيضا" عن ابن عمر قال: قال عمر بن الخطاب لعلي بن أبي طالب: يا أبا الحسن! ربما شهدت وغبنا وربما شهدنا وغبت، ثلاث أسألك عنهن هل عندك منهن علم؟ قال علي: وما هن؟ قال الرجل يحب الرجل ولم ير منه خيرا والرجل يبغض الرجل ولم ير منه شرا، قال علي، نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الأرواح في الهواء جنود مجندة تلتقي فتشام فما تعارف منها ائتلف وما تناكر منها اختلف، قال: واحدة؛ والرجل يتحدث بالحديث نسيه أو ذكره؟ قال علي: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من القلوب قلب إلا وله سحابة كسحابة القمر، بينا القمر يضيء إذ علته سحابة فأظلم إذ تجلت، قال عمر: اثنتان؛ والرجل يرى الرؤيا فمنها ما يصدق ومنها ما يكذب؟ قال: نعم سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من عبد ولا أمة ينام فيستثقل نوما إلا يعرج بروحه في العرش، فالتي لا تستيقظ إلا عند العرش فتلك الرؤيا التي تصدق، والتي تستيقظ دون العرش فهي الرؤيا التي تكذب فقال عمر: ثلاث كنت في طلبهن فالحمد لله الذي أصبتهن قبل الموت. "طس" وقال: تفرد به عبد الرحمن بن مغرا، "حل" والديلمي.
٣٦٥١٢۔۔۔ ” ایضاً “ ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے فرمایا : اے ابو الحسن ! بسا اوقات تم حاضر ہوتے ہم غائب ہوتے اور بسا اوقات ہم حاضر ہوتے تم غائب ہوتے میں تین (٣) چیزوں کے متعلق تم سے سوال کرنا چاہتا ہوں یا ان کے متعلق تمہارے اس علم ہے ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : وہ کیا ہیں ؟ حضرت عمر نے کہا : ایک شخص کسی دوسرے شخص سے محبت کرتا ہے حالانکہ اس سے وہ بھلائی نہیں دیکھ پاتا اور ایک شخص دوسرے سے بغض کرتا ہے حالانکہ اس سے وہ برائی نہیں دیکھ پاتا حضرت علی (رض) نے کہا : جی ہاں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ہے کہ روحین ہوا میں ہوتی ہیں جو جمع شدہ لشکر ہیں۔ وہ آپس میں ملتی جلتی ہیں جن کا آپس میں تعارف ہوجاتا ہے وہ آپس میں محبت کرنے لگتی ہیں اور جو آپس میں اجنبیت محسوس کرتی ہیں وہ ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتی ہیں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : یہ ایک چیز ہوئی : بسا اوقات ایک شخص کوئی بات کرتا ہے وہ اسے یاد رہتی ہے یا بھول جاتا ہے حضرت علی (رض) نے جواب دیا : ہر دل کے بادل ہوتے ہیں جیسے چاند کے بادل کہ چاند چمک رہا ہوتا ہے یکایک اس پر بادل چھا جاتا ہے اور اس کی روشنی ماند پڑجاتی ہے اور پھر چمکنے لگتا ہے حضرت عمر (رض) کے کہا : یہ دو چیزیں ہوئیں آدمی خوابین دیکھتا ہے کوئی سچی ہوتی ہے کوئی جھوٹی ؟ حضرت علی (رض) نے کہا : جی ہاں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ جو بھی بندہ یا بندی سوتا ہے اس کی نیند گہری ہوجاتی ہے اس کی روح عرش کی طرف چڑھ جاتی ہے اور جو روح عرش کے پاس بیدار ہوتی ہے تو یہ خواب سچا ہوجاتا ہے اور جو روح عرش کے علاوہ کہیں اور بیدار ہوتی ہے تو یہ خواب جھوٹا ہوتا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ تین چیزیں تھیں میں جنکی تلاش میں تھا اللہ کا شکر ہے میں نے مرنے سے قبل پالیں۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط وقال تفرد بہ عبد الرحمن بن مغرا وابو نعیم فی الحلیۃ والدیلمی