36523- "أيضا" بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيدي ونحن نمشي في بعض سكك المدينة فمررنا بحديقة فقلت: يا رسول الله! ما أحسنها من حديقة! قال: لك في الجنة أحسن منها، ثم مررت بأخرى فقلت: يا رسول الله! ما أحسنها من حديقة! قال: لك في الجنة أحسن منها حتى مررنا بالسبع حدائق كل ذلك أقول: ما أحسنها، ويقول: لك في الجنة أحسن منها، فلما خلى له الطريق اعتنقني ثم أجهش1 باكيا: قلت: يا رسول الله! ما يبكيك؛ قال: ضغائن في صدور أقوام لا يدونها لك إلا من بعدي، قلت: يا رسول الله! في سلامة من ديني؟ قال: في سلامة من دينك. "البزار، "ع، ك" وأبو الشيخ في كتاب القطع والسرقة، "خط" وابن الجوزي في الواهيات، وابن النجار في تاريخه.
٣٦٥٢٣۔۔۔ ” ایضاً “ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑا اور ہم مدینہ کی ایک گلی میں چل رہے تھے اتنے میں ہم ایک باغیچہ کے پاس سے گزرے میں نے یا رسول اللہ ! یہ باغیچہ کتنا خوبصورت ہے : آپ نے فرمایا : جنت میں تمہارے لیے اس سے خوبصورت باغیچہ ہے پھر ہم ایک اور باغیچہ کے پاس سے گزرے میں نے عرض کیا رسول اللہ ! یہ باغیچہ کتنا خوبصورت ہے آپ نے فرمایا : جنت میں تمہارے لیے اس سے خوبصورت باغیچہ ہے یوں ہم سات باغیچوں کے پاس سے گزرے ہر بار آپ نے یہی فرمایا : جب آپ صاف کھلے راستے میں آگئے آپ نے مجھے گلے لگا لیا اور دردمندانہ انداز میں رونے لگے : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہارے متعلق لوگوں کے دلوں میں کینہ ہے جو میرے بعد ظاہر ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں دین پر سلامت و ثابت رہوں گا فرمایا دین پر تمہارے سلامت رہنے کی وجہ سے ہے۔ (رواہ البزار وابویعلی والحاکم وابو الشیخ فی کتاب القطع والسرقۃ والخطیب وابن الجوزی فی الواھیات وابن النجارفی تاریخ)