36637- "أيضا" عن عروة قال: إن أول رجل سل السيف الزبير بن العوام، سمع نفخة نفخها الشيطان: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم، فخرج الزبير يشق الناس بسيفه والنبي صلى الله عليه وسلم بأعلى مكة فقال له: ما لك يا زبير؟ قال: أخبرت أنك أخذت، فصلى عليه ودعا له ولسيفه. "أبو نعيم، كر".
٣٦٦٣٧۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ سب سے پہلے جس شخص نے تلوار سونتی (اسلام میں) وہ زبیر بن عوام (رض) ہیں چنانچہ زبیر (رض) نے کوئی شیطانی آواز سنی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ لیے گئے ہیں زبیر (رض) اپنی تلوار لے کر نکل پڑے جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں اوپر کی طرف تھے آپ نے زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر تمہیں کیا ہوا : زبیر (رض) نے جواب دیا : مجھے خبر دی گئی ہے کہ آپ پکڑے گئے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) کے لیے دعا کی اور تلوار واپس کی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)