36638- "أيضا" عن عروة أن الزبير بن العوام سمع نفخة من الشيطان، أن محمدا أخذ، بعد ما أسلم وهو ابن ثنتي عشرة سنة، فسل سيفه وخرج يشتد الأزقة حتى أتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بأعلى مكة والسيف في يده، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ما شأنك؟ قال: سمعت أنك قد أخذت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ما كنت تصنع؟ قال: كنت أضرب بسيفي هذا من أخذك، فدعا له رسول الله صلى الله عليه وسلم ولسيفه وقال: انصرف؛ وكان أول سيف سل في سبيل الله. "أبو نعيم، كر".
٣٦٦٣٨۔۔۔ عروہ کی روایت ہے کہ حضرت زبیر (رض) نے ایک دفعہ کوئی شیطانی آواز سنی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکڑ لیے گئے ہیں یہ واقعہ اسلام لانے کے بعد کا ہے اس وقت ان کی عمر بارہ سال تھی زبیر (رض) اپنی تلوار سونتے دوڑ پڑے حتیٰ کہ مکہ کے اوپر والے حصہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ گئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا تمہیں کیا ہوا عرض کیا میں سنا ہے کہ آپ پکڑ لیے گئے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر معاملہ ایسا ہی ہوتا تم کیا کرتے ؟ عرض کیا : میں اپنی اس تلوار سے آپ کو پکڑنے والے پر حملہ کرتا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) اور ان کی تلوار کیلئے دعا کی زبیر (رض) واپس لوٹ آئے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی رواہ میں یہ پہلی تلوار ہے جو نیام سے نکال گئی۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)