36639- "أيضا" عن حفص بن خالد قال: حدثني شيخ قدم علينا من الموصل قال: صحبت الزبير بن العوام في بعض أسفاره فأصابته جنابة بأرض قفر فقال: استرني، فسترته فحانت مني إليه التفاتة فرأيته مجدعا بالسيوف، قلت: والله! لقد رأيت بك آثارا ما رأيتها بأحد قط، قال: وقد رأيت ذلك؟ قلت: نعم، قال: أما والله! ما منها جراحة إلا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي سبيل الله.
"أبو نعيم، كر".
٣٦٦٣٩۔۔۔ ” ایضاً ” حفص بن خالد کی روایت ہے کہ مجھے ایک بوڑھے نے حدیث سنائی ہے جو موصل میں ہمارے پاس آیا تھا وہ رہتا ہے ایک دفعہ سفر میں میں زبیر بن عوام (رض) کے ساتھ ہوگیا چنانچہ بیابان جگہ میں زبیر (رض) کو جنابت لاحق ہوگئی انھوں نے مجھے کہا میرے آگے پردہ کرلو میں نے پردہ کرلیا اور میں ان کے قریب ہوگیا جب میں نے ان کی طرف التفات کیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کا جسم تلواروں کے زخموں سے چھنی ہے میں نے کہا : بخدا میں تمہارے جسم پر نشانات دیکھ رہا ہوں جو میں نے کبھی کسی پر نہیں دیکھے زبیر (رض) نے کہا : کیا تم یہ دیکھ چکے ہو ؟ میں نے کہا : جی ہاں پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! جو زخم بھی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی رواہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ لگا ہے۔ (رواہ ابو نعیم وابن عساکر)