hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36662

.

كنز العمال

36662
Kanz al-Ummal
36652- "مسند عمر رضي الله عنه" عن شريح بن عبيد وراشد بن سعد وغيرهما قالوا: لما بلغ عمر بن الخطاب سرغ حدث أن بالشام وباء شديدا فقال: بلغني أن شدة الوباء بالشام فقلت: إن أدركني أجلي وأبو عبيدة بن الجراح حي استخلفته، فإن سألني الله: لم استخلفته على أمة محمد صلى الله عليه وسلم؟ قلت: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن لكل نبي أمينا وأميني أبو عبيدة بن الجراح، فأنكر القوم ذلك وقالوا: ما بال عليا قريش - يعنون بني فهر؟ ثم قال فإن أدركني أجلي وقد توفي أبو عبيدة استخلفت معاذ بن جبل فإن سألني ربي عز وجل: لم استخلفته؟ قلت: سمعت رسولك صلى الله عليه وسلم يقول: إنه يحشر يوم القيامة بين يدي العلماء نبذة. "حم وابن جرير وهو صحيح ورواه حل من طرق عن عمر".
٣٦٦٥٢۔۔۔ ” مسند عمر (رض) “ شرع بن عبید و راشد بن سعد وغیرہ ہما کی روایت ہے کہ جب حضرت عمر بن خطاب (رض) مقام سرغ پہنچے انھیں بتایا گیا کہ شام میں سخت وبا (طاعون) پھیلی ہوئی ہے آپ (رض) نے فرمایا : مجھے خبر پہنچی ہے کہ شام میں سخت وبا پھیلی ہوئی ہے اگر مجھے موت نے آن لیا اور ابو عبیدہ بن الجرح زندہ ہوں میں انھیں خلیفہ مقرر کرتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے پوچھا کہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ابوعبیدہ کو کیوں خلیفہ مقرر کیا ہے ؟ میں کہونگا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : ہر نبی کا ایک امین ہوتا ہے اور میرا امین ابو عبیدہ بن الجراح ہے لوگوں نے آپ (رض) کی بات کو اوپر تصور کیا اور کہنے لگے : قریش کے اونچے طبقہ کا کیا ہوا ؟ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر مجھے موت نے آن لیا دراں حالیکہ ابو عبیدہ بھی وفات پاجائیں تو میں معاذ بن جبل (رض) کو خلیفہ مقرر کرتا ہوں اگر میرے رب تعالیٰ نے مجھ سے پوچھا کہ اسے کیوں خلیفہ مقرر کیا ہے ؟ میں کہوں گا کہ میں نے میرے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے : قیامت کے دن وہ چند علماء کے آگے آگے لایا جائے گا یعنی قیامت کے دن معاذ (رض) علماء کی قیامت کر رہے ہوں گے۔ (رواہ احمد بن حنبل وابن جریر وھو صحیح ورواہ ابو نعیم فی الحلیۃ من طرق عن عمر)