36666- "أيضا" عن سعيد بن أبي سعيد المقبري قال: لما طعن أبو عبيدة بن الجراح بالأردن - وبها قبره - دعا من حضره من المسلمين فقال: إني موصيكم بوصية إن قبلتموها لن تزالوا بخير! أقيموا الصلاة وآتوا الزكاة وصوموا شهر رمضان وتصدقوا وحجوا واعتمروا وتواصوا، وانصحوا لأمرائكم ولا تغشوهم، ولا تلهكم الدنيا فإن امرءا لو عمر ألف حول ما كان له بد من أن يصير إلى مصرعي هذا الذي ترون، إن الله كتب الموت على بني آدم فهم ميتون، وأكيسهم أطوعهم لربه، وأعملهم ليوم معاده - والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته؛ يا معاذ بن جبل! صل بالناس. ومات، فقام معاذ في الناس! فقال: أيها الناس! توبوا إلى الله من ذنوبكم توبة نصوحا، فإن عبدا لا يلقى الله تائبا من ذنبه إلا كان حقا على الله أن يغفر له إلا من كان عليه دين فإن العبد مرتهن بدينه، ومن أصبح منكم مهاجرا أخاه فليلقه فليصافحه، ولا ينبغي لمسلم أن يهجر أخاه أكثر من ثلاث، فهو الذنب العظيم. "كر".
٣٦٦٦٦۔۔۔ ” ایضاً “ سعید بن ابی سعید مقبری کی روایت ہے جب حضرت ابو عبیدہ بن الجراح (رض) طاعون میں مبتلا ہوئے آپ اردن میں تھے اور وہیں آپ کی قبر بھی ہے آپ نے مسلمانوں میں سے جو وہاں موجود تھا اسے اپنے پاس بلایا اور کہا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے قبول کروگے خیر و بھلائی پر قائم ہوگے نماز قائم کرتے رہو زکوۃ دیتے رہو رمضان کے روزے رکھو صدقہ و حج وعمرہ کرو ایک دوسرے کی بھلائی چاہو اپنے امراء کے لیے خیر خواہ رہو ان سے دھوکا مت کرو اور تمہیں دنیا غافل نہ کرنے پائے اگر کسی کو ہزار سال عمر بھی مل جائے اسے ضرور موت کا سامنا کرتا ہے جسے تم اب دیکھ رہے ہو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم پر موت فرض کردی ہے وہ ضرور مرکر رہیں گے بنی آدم میں سب سے زیادہ عقلمند وہ ہے جو اپنے رب کی زیادہ اطاعت کرنے والا ہے اور اپنے آخری دن کیلئے زیادہ عمل کرتا ہے۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
اے معاذ بن جبل ! لوگوں کو نماز پڑھاؤ چنانچہ ابو عبیدہ بن الجراح (رض) نے جان جان آفریں کے سپرد کردی اور حضرت معاذ (رض) نے لوگوں کو نظام سنبھال لیا اور فرمایا : اے لوگو ! اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے گناہوں سے پکی اور سچی توبہ کرو چونکہ جو شخص اپنے گناہوں سے توبہ تائب ہو کر اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرتا ہے اللہ کا حق ہوجاتا ہے کہ اس بندے کو معاف کرے الایہ کہ اس پر کسی کا قرض ہو چونکہ بندہ قرض میں پکڑا جاتا ہے تم میں سے جو شخص اپنے بھائی کو چھوڑتے ہوئے صبح کرے (یعنی اس سے ناراض ہو) وہ اس سے مل لے اور اس سے مصافحہ کرے کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زائد چھوڑے اور یہ کبیرہ گناہ ہے۔ (رواہ ابن عساکر)