36670- عن الحارث بن الصمة الأنصاري قال: سألني رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد وهو في الشعب هل رأيت عبد الرحمن بن عوف؟ قلت: نعم يا رسول الله! رأيته إلى حر الجبل وعليه عكر من المشركين فهويت إليه لأمنعه فرأيتك فعدلت إليك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما! إن الملائكة تقاتل معه، فرجعت إلى عبد الرحمن فأجده بين نفر سبعة صرعى فقلت له، ظفرت يمينك أكل هؤلاء قتلت؟ قال: أما هذا الأرطأة بن عبد شرحبيل وهذان فأنا قتلتهما، وأما هؤلاء فقتلهم من لم أره، قلت: صدق الله ورسول الله صلى الله عليه وسلم. ابن منده، "طب"، وأبو نعيم.
٣٦٦٧٠۔۔۔ حارث بن ۔۔ انصاری (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک گھاٹی میں تھے آپ نے مجھ سے پوچھا کیا تم نے عبد الرحمن بن عوف و دیکھا ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں یا رسول اللہ ! میں نے انھیں پہاڑ کے دامن میں دیکھا ہے اور ان پر مشرکین کا ایک گروہ چھایا ہوا ہے۔ میں چاہا کہ ان کی طرف جاؤں اور ان کا دفاع کروں لیکن میں نے آپ کو دیکھا تو آپ کی طرف پلٹ آیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار ! فرشتے اس کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ چنانچہ میں عبد الرحمن (رض) کی طرف چل پڑا میں نے انھیں سات آدمیوں کے درمیان پایا جو مقتول پچھاڑے گئے تھے میں نے کہا : آپ تو صحت مند رہے کیا ان سب کو آپ نے قتل کیا ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : اس کو اسطات بن عبد سرجیل نے قتل کیا ہے اور یہ دو میں نے قتل کیے ہیں رہی بات ان مقتولین کی سو یہ اس نے قتل کیے ہیں جسے میں دیکھ نہیں سکتا۔ میں نے کہا : اللہ اور اللہ کے رسول نے سچ فرمایا۔ (رواہ ابن مندہ والطبرانی وابو نعیم)