hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 36681

.

كنز العمال

36681
Kanz al-Ummal
36671- عن عمرو بن وهب الثقفي قال: كنا عند المغيرة بن شعبة فقيل له: هل أم أحد من هذه الأمة النبي صلى الله عليه وسلم غير أبي بكر؟ فقال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر فلما كان في وجه السحر ضرب عنق راحلتي فظننت أن له حاجة فعدلت معه، فانطلقنا حتى برزنا عن الناس، فانطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم فتغيب عني حتى ما أراه، فمكث مليا ثم جاء فقال: حاجتك يا مغيرة؟ فقلت: ما لي حاجة، فقال: هل معك ماء؟ قلت: نعم، فقمت إلى قربة - أو قال: سطيحة - معلقة في مؤخرة الرحل فأتيته بها فصببت عليه، فغسل يديه وأحسن غسلهما - وأشك أن قال: أدلكهمابالتراب أم لا ثم غسل، ثم ذهب يحسر عن ساعديه وعليه جبة شامية ضيقة الكمين فضاقت فأخرج يديه من تحتهما إخراجا فغسل وجهه ويديه - فذكر في الحديث غسل الوجه مرتين - لا أدري أهكذا أم لا - فمسح رأسه ومسح العمامة ومسح على الخفين، ثم ركبنا فأدركنا الناس وقد أقيمت الصلاة، فتقدمهم عبد الرحمن بن عوف وقد صلى بهم ركعة وهو في الثانية، فأخذت أوذنه فنهاني وصلينا الركعة التي أدركنا ثم قضينا الذي سبقنا. "ص".
٣٦٦٧١۔۔۔ عمرو بن وھب ثقفی کی روایت ہے کہ ہم حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کے پاس تھے ان سے پوچھا گیا، کیا اس امت میں سے ابوبکر (رض) کے علاوہ کسی اور نے بھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امامت کرائی ہے حضرت مغیرہ (رض) نے جواب دیا : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ایک دن سحری کے قریب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری سواری کی گردن پر ماری میں سمجھا آپ کو کوئی کام ہے میں آپ کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہم چل پڑے حتیٰ کہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے آگے بڑھ گئے حتیٰ کہ میری نظروں سے غائب ہوگئے تھوڑی دیر ٹھہرے اور پھر واپس آگئے مجھ سے فرمایا : اے مغیرہ تمہیں کوئی کام ہے ؟ میں نے عرض کیا : مجھے کوئی کام نہیں فرمایا : تمہارے پاس پانی ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں میں لپکا اور کجاوے سے مشکیزہ کھول کرلے آیا میں نے آپ پر پانی بہایا آپ نے ہاتھ دھوئے اور اچھی طرح سے دھوئے مجھے شک ہے کہ آیا مٹی پا ہاتھ رگڑے یا نہیں آپ نے دوبارہ ہاتھ دھوئے اور پھر اپنے بازؤوں سے پانی جھاڑنے لگے آپ نے شامی جبہ پہن رکھا تھا اس کی آستین تنگ تھیں جیسے کے نیچے سے آپ نے ہاتھ نکالے اور چہرہ دھویا۔ حدیث میں ذکر کیا دو مرتبہ چہرہ دھویا مجھے معلوم نہیں اسی طرح ہے یا نہیں۔ آپ نے سر مبارک پر مسح کیا اور عمامہ پر بھی مسح کیا اور پھر موزوں پر مسح کیا پھر ہم اونٹنی پر سوار ہو لیے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی کی جاچکی تھی اور عبد الرحمن بن عوف آگئے کھڑے۔ (امامت کرا رہے) تھے۔ ایک رکعت ہوچکی تھی اور وہ دوسری رکعت میں تھے میں عبد الرحمن بن عوف (رض) کو بتلانے لگا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لاچکے ہیں لہٰذا پیچھے ہٹ جاؤ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے منع فرما دیا : جو رکعت ہم نے پائی وہ امام کے ساتھ پڑھ لی اور جو ہم سے فوت ہوچکی تھی وہ ہم نے قضاء کرلی۔ (رواہ سعید بن المنصور)